حکومت اجودھیا تنازع کوانتخابی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے : جماعت اسلامی ہند

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہندنے اجودھیا تنا زع کے متعلق حکومت کی رویے کی نکتہ چینی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کہ مودی حکومت انتخابی فائدے کے لئے اس مسئلے کا استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے سکریٹری جنرل محمد سلیم انجینئر نے ا?ج یہاں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اجودھیا میں بابری مسجد سے متعلق زمین کے سلسلے میں مرکزی حکومت کے ذریعہ سپریم کورٹ میں د ا خل کی گئی عرضی عدل و انصاف کے تقاضوں سے متصادم اور ملکی مفادات کے خلاف ایک جذباتی اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات بہت اچھی طرح سے معلوم ہے کہ بابری مسجد سے متعلق مختلف مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور ہمیشہ سے یہ روایت ہے کہ کسی بھی مقدمے کے فریقین عدالت کے فیصلے کا انتظار کرتے ہیں اور جو بھی فیصلہ ہوتا ہے اس کو قبول بھی کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ بات اپنے ا?پ ہی حیرت انگیز اور ناقابل فہم ہو جاتی ہے کہ ہندوستان کی جمہوری اور سیکولر حکومت بابری مسجد کے مقدمے میں خود فریق کیوں بن رہی ہے؟۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے اس عجیب و غریب رویہ سے لوگ یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجانب ہوں گے کہ وہ عوام کو انصاف فراہم کرنے کی اپنی اہم ذمہ داری سے اعراض برت کر ا?ئندہ پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر کچھ ووٹرس کو سبز باغ دکھا کر انہیں خوش کرنا اور سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔مسٹر سلیم نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ا?ئینی تقاضوں کی خلاف ورزی نہ کرے اور مذکورہ 67ایکٹر زمین پرایودھیا تنازع کا فیصلہ ہونے تک جو عدالتی اسٹے ہے ، اس کی پاسداری کرتے ہوئے ایسا کوئی اقدام نہ اٹھائے جو انصاف کے تقاضوں کے خلاف اور حکومت کے سلسلے میں شک و شبہ پیدا کرنے والا نیز دنیا میں ملک کی تصویر بگاڑنے والا ہو۔جماعت اسلامی کے رہنما نے حکومت پرزور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں امن و امان اور عدل و انصاف قائم کرنے کے سلسلے کی اپنی ذمہ داری کو زیادہ شدت سے محسوس کرے اور ملک کے حقیقی فلاح و بہبود اور پر سکون و خوش حال بنانے کا اپنا فریضہ ادا کرے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading