-
کانگریس کی حکومت آنے پر ایس آر اے کے تحت 500 اسکوائر فٹ کا مکان دیا جائے گا
-
ایم ایم آر ڈی اے گراؤنڈ میں کانگریس کے صدر راہل گاندھی کا وعدہ۔ بی جے پی پر جم کر تنقید
ممبئی: یہاں باندرہ کرلا کپلکس کے ایم ایم آرڈی اے گراؤنڈ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کی سرکار مہاراشٹر میں آئے گی تو وہ شہر کی چالوں اور جھوپڑپٹیوں میں رہنے والے لوگوں کو ایس آر اے اسکیم کے تحت دس دنوں کے اندر500 اسکوائر فٹ کا مکان دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم جو وعدہ کرتے ہیں ، اسے پورا کرتے ہیں۔ ہم نے مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں دس دنوں کے اندر کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا، سرکار بننے کے بعد ہم نے دو گھنٹے کے اندر ان کا قرضہ معاف کردیا۔ ہم یہاں دس دنو ںمیں غریبوں کو پانچ سو اسکوائر فٹ کا مکان دینے کا جو وعدہ کررہے ہیں، وہ ہم دو دن میں ہی پورا کردیں گے۔

ممبئی کانگریس کی جانب سے منعقدہ اس جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے بی جے پی پر جم کر تنقید کی اور کہا کہ چوکیدار چور ہی نہیں بلکہ ڈرپوک بھی ہے۔ انہوں نے ممبئی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ممبئی کوئی معمولی شہر نہیں ہے بلکہ یہ ہندوستان کا انجن ہے۔ یہ ہندوستان کو شکتی دیتا ہے۔ ایک طرح سے یہ ہندوستان کا دل ہے۔مودی جی نے2014 میں کہاتھا کہ میں100 اسمارٹ سٹی بناؤ¿نگا۔ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پوری دنیا کے سامنے دنیا کی سب سے اسمارٹ سٹی یہاں ہے۔ اسے ممبئی کہتے ہیں۔ مگر اس کو صحیح طریقے سے پہچاننا پڑے گا۔اس کی سچی شکتی کو سمجھنا پڑے گا اور اس کی شکتی کو سپورٹ کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ مودی جی جہاں بھی جاتے ہیں بھاشن کرتے ہیں۔ لمبے لمبے وعدے کرتے ہیں۔ کسانوں کا قرضہ معاف، دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار،15لاکھ روپئے بینک اکاؤنٹ میں۔ کیا ہے کوئی یہاں جس کے اکاؤنٹ میں چوکیدار جی نے15لاکھ روئپے ڈالے ہوں؟ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بجٹ پیش ہورہا تھاکہ بی جے پی کے ایم پیز نے تالیاں بجانی شروع کردیں۔ پانچ منٹ تک مودی جی کی اور دیکھ کر تالیاں بجاتے رہے۔ معلوم ہوا کہ ہندوستان کے کسانوں کو17 روپئے دن کے دیئے ہیں۔ ایک شخص کو نہیں بلکہ پورے ایک پریوار کو17روپئے۔ ایک شخص کو ساڑھے تین روپئے۔ انل امبانی کا45 ہزار کروڑ روپئے بینک کا قرض دیا اور اس کے بعد اے ایچ ایل سے کنٹریکٹ چھین کر ایک شخص کو30 ہزار کروڑ روپئے جیب میں ڈال دیئے۔ اور لوک سبھا میں ساڑھے تین روپئے دے کر تالیاں بجوارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ نے30 ہزار کروڑ روپئے دیئے تو کیوں تالی نہیں بجائی اور دیش کو کیوں نہیں بتایاکہ ہم نے ایک آدمی کو 30 ہزار کروڑ روپئے دیئے ہیں۔ دیش کو آپ نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ نیرومودی اور میہول چوکسی کو آپ نے35 ہزار کروڑ روپئے دیئے ہیں؟ دیش کو آپ نے کیوں نہیں بتایا کہ وجئے مالیا کو10 ہزار کروڑ روپئے دیئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو جھوٹ سننا ہے تو چوکیدار کے یہاں چلے جاؤ، اور اگر سچائی سننی ہے
تو ہمارے پاس آو، ہمارے پاس کچھ جھوٹ نہیں ہے۔من کی بات سننی ہے تو وہاں جاؤاور کام کی بات سننی ہے تو یہاں آؤاورمیں کام کی بات بتاتا ہوں۔ چوکیدار نے دیش کے15لوگوں کو ساڑھے تین لاکھ کروڑ روپئے قرض معاف کیا ہے۔ میں ممبئی کے غریب کاروباریوں اور عوام سے پوچھنا چاہتا ہو ں کہ آپ کا کتنا قرض معاف ہوا؟ دھاراوی کے جو چھوٹے چھوٹے کاروباری لوگ ہیں ان کا نریندر مودی نے کتنا قرضہ معاف کیا؟انہوں نے کہا کہ مودی دو ہندوستان بنانا چاہتے ہیں۔ ایک انل امبانی والا ، اس ہندوستان میں20۔25لوگ ہیں۔ دوسرا ہندوستان غریبوں کا۔ غریبوں کے ہندوستان میں کسانوں کی خودکشی، اپنا پیسہ ان امبانی کی کمپنی کو بیمہ کے لئے دواور جب کوئی آفت آئے گی تو امبانی کا فائدہ ہوگا۔راہل گاندھی نے نوٹ بندی اورجی ایس ٹی کا بھی تذکرہ کیا اور کہاکہ اس سے ملک کے صرف چند بڑے صنعتکاروں اور ودیشی کمپنیوںکا فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوکیدار صرف چور ہی نہیں ہے بلکہ ڈرپوک بھی ہے۔ پارلیمنٹ میں ہم نے رافیل کے بارے میں چار سوال کئے لیکن نریندرمودی نے ڈیڑھ گھنٹہ بھاشن دیا ، آنکھ سے آنکھ نہیں ملاپائے، ہمارے سوالوں کے جواب نہیں دیئے۔ کیونکہ چوکیدار چور ہے۔

مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر اشوک چوہان نے کہا کہ تبدیلی کی ہوا آج نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک میں چلنے لگی ہے۔ لوگ تبدیلی کا انتظار کررہے ہیں۔ ممبئی اور ریاست کی جو بدتر حالت بی جے پی وشیوسینا نے کیا ہے، اس کا بھرپور جواب دینے کا وقت آگیا ہے۔ پانچ سال قبل مودی اسٹیج سے عوام سے پوچھتے تھے کہ اب کی بار اور عوام جواب دیتی تھی کہ مودی سرکار، لیکن اب اگر وہ پوچھتے ہیں کہ اب کی بار تو عوام کہتی ہے کہ بس کر یار۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر ہر محاذ پر پچھڑتا جارہا ہے۔ سرمایہ کاری کم ہوچکی ہے۔ روزگار کم ہوچکا ہے۔ غریب آدمی کو کام نہیں مل رہا ہے۔ آج مہاراشٹر میں اسی طرح کی صورت حال کا پائی جارہی ہے۔ اشوک چوہان نے ملند دیورا کے اس مطالبے کا کہ ممبئی میں چالوں اور جھوپڑپٹیوں میں رہنے والوں کو بڑا گھر ملنا چاہئے، حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں ہماری سرکار آنے دو، ہم تمام لوگوں کو پانچ سو اسکوائر فٹ کا گھر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ سرکار بڑے لوگوں کی سرکار ہے۔ بی جے پی سرکار بلڈروں کی سرکار ہے۔ یہ سرکار غریبوں کے لئے کچھ نہیں کرے گی۔ کانگریس کی حکومت لایئے، ہم غریبوں کے مسائل فوقیت کی بنیاد پر حل کریںگے۔اشوک چوہان نے کہا کہ پلوامہ کے معاملے میں ہمارے صدر نے کہا کہ یہ ملک کی سالمیت کا معاملہ ہے، اس معاملے میں ہمیں حکومت کے ساتھ رہنا چاہئے۔ لیکن بی جے پی والے اس حملے کا سیاسی فائدہ اٹھانے لگے ہیں۔ ہمیں اپنے فوجیوں پر فخر ہے، لیکن اگر بی جے پی والے ان کی شہادت پر سیاست کریں گے تو ہم ان کی مذمت کئے بغیر نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مودی جی ہم دوبارہ ہرگز نہیں دیں گے تمہیں حکومت ہندوستان کی کیونکہ ہم نے آپ کو کھاتے ہوئے دیکھا ہے بریانی پاکستان کی۔ بی جے پی وشیوسینا پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہی بی جے پی ہے جو شیوسینا کو کہتی تھی کہ ہم اٹھاکر پٹھک دیں گے اور شیوسینا کہتی تھی کہ اتحاد گیا بھاڑ میں۔ اب یہی دونوں مل کر مہاراشٹر کو بھاڑ میں ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صحیح معنوں میں تمام لوگوں کو بلندی پر لاناہے تو انہیں انصاف دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مراٹھا ریزرویشن ان کی وجہ سے نہیں ملا، ۸۵ مورچے نکالے اس کی وجہ سے مراٹھا ریزرویشن ملا۔ لیکن حکومت کے آرڈیننس نکالا ہے کہ ریزرویشن کا سرٹیفیکٹ کسی کو نہ دیا جائے۔ مسلمانوں کا ریزرویشن اٹھاکر طاق پررکھ دیا ۔ دھنگر سماج سے کہا گیا کہ پہلے کیبنیٹ کی میٹنگ میں ریزرویشن دیا جائے گا لیکن اب آخری کیبنیٹ کا وقت آگیا ہے، انہیں ریزرویشن نہیں دیا گیا۔اس حکومت نے عوام کو بے وقوف بنانے اور گمراہ کرنے کا ایک نکاتی کام کیا ہے۔مجھے یقین ہے کہ ممبئی کی عوام مکمل طور پر کانگریس کے ساتھ رہے گی۔
مہاراشٹر کانگریس کے نگراں اور ممبر پارلیمنٹ ملکا رجن کھڑگے نے کہا کہ آج پورا ملک ممبئی کی جانب دیکھ رہا ہے۔ اگر ملک میں تبدیلی لانی ہے تو وہ ممبئی سے ہی شروعات ہوگی۔ ملک کی معاشی راجدھانی ممبئی اور مہاراشٹر ایک مضبوط ریاست ہونے کے باوجود آج یہاں سرمایہ کاری بہت کم ہوچکی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ سرمایہ کاری میں یہ ریاست13ویں نمبر پر جاچکی ہے۔ جو ممبئی اور جو مہاراشٹر ملک میں اول نمبر پر رہتا تھا، اسے آج بی جے پی وشیوسینا نے13نمبر پر لادیا ہے۔ یہ صورت حال بی جے پی وشیوسینا نے بنایا ہے۔آج ہمارے سامنے دو بڑے مدے ہیں۔ ایک جمہوریت کو بچانا اور دوسرا اس ملک کے آئین کو بچانا۔ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے جو آئین ہمیں دیا ہے، اس آئین کا ستیاناش اگر کوئی کررہا ہے تو وہ مودی سرکار ہے۔ ہر معاملے میں وہ آئین کو بالائے طاق رکھ کر مداخلت کررہے ہیں اور انہیں جو چاہئے وہ وہی کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ کسی ادارے کو وہ آزاد نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ وہ ہر معاملے میں آر ایس ایس کے آئیڈیالوجی کو لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بابا صاحب کا اصولدیش میں زندہ رہے تو آئین کو بچانا ہم سب پر فرض ہے اور یہ پہلا کام ہم سب کو کرنا پڑے گا۔ اگر آئین بچے گا تو ہی اس ملک میں جمہوریت بچ سکتی ہے۔
اس جلسہ عام میں ممبرپارلیمنٹ اور مہاراشٹر کانگریس کے نگراں ملکا رجن کھڑگے، ریاستی کانگریس کے صدر اشوک چوہان، ممبئی کانگریس کے صدر سنجئے نروپم، سابق ممبر پارلیمنٹ ملند دیورا، ایم ایل اے نسیم خان اورایم ایل اے ورشا گائیکواڑنے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ سوشیل کمار شندے، سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان، حزب مخالف لیڈر رادھا کرشن ویکھے پاٹل، ممبر پارلیمنٹ حسین دلوائی، پریہ دت، بالاصاحب تھورات، ایکناتھ گائیکواڑ،نتن راو ت، ایم ایل اے جناردن چاندروکر، ایم ایل اے بھائی جگتاپ، شریش شیٹی، ایم ایل اے اسلم شیخ اور ایم ایل اے امین پٹیل،سابق ایم ایل اے چرن سنگھ سپرا، اشوک جادھو، کرپاشنکر سنگھ، چندر کانت ہنڈورے، مدھوچوہان، نیز پارٹی کے دیگر اہم لیڈران موجود تھے۔