اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ اسرائیلی جیلوں سے 500 سے زائد فلسطینی قیدیوں کے بدلے غزہ سے 21 یرغمالیوں (16 اسرائیلی اور 5 تھائی شہری) کو رہا کیا گیا۔
تاہم اب پیر کے روز حماس کی جانب سے ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ یرغمالیوں کی آئندہ ہفتے کو طے شدہ رہائی کو ملتوی کر رہے ہیں۔ کیونکہ اسرائیل معاہدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہا ہے جس میں غزہ کے اندر اہداف کے خلاف مسلسل حملے بھی شامل ہیں۔
اسرائیل نے اس کے جواب میں حماس پر معاہدے کی خلاف ورزی اور مزید یرغمالیوں کی رہائی کی ذمہ داری کا الزام عائد کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ انھوں نے اب اسرائیلی دفاعی افواج کو غزہ میں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔یہ پیش رفت بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے کیونکہ کمزور جنگ بندی کو دوسرے مرحلے میں توسیع دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اسرائیلی حکومت آخری تین یرغمالیوں کی رہائی پر برہم تھی۔
حماس کی جانب سے یہ اعلان غزہ کے مستقبل کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازع تجاویز کا جواب دینے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔حماس کا کہنا ہے کہ وہ مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو معطل کر رہا ہے۔پیر کو حماس کے عسکری ونگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ’اگلی اطلاع تک‘ معطل کر رہا ہے۔واضح رہے کہ تین مزید اسرائیلی یرغمالیوں کو سنیچر کو رہا کیا جانا تھا۔
حماس نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ ’گذشتہ تین ہفتوں کے دوران تحریک کی قیادت نے دشمن کی خلاف ورزیوں اور معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے میں ناکامی کا مشاہدہ کیا۔بیان کے مطابق ’ان خلاف ورزیوں میں شمالی غزہ میں بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی میں تاخیر، پٹی کے مختلف علاقوں میں انھیں شیلنگ اور فائرنگ سے نشانہ بنانا اور جس طرح اتفاق ہوا تھا اس طرح انسانی امداد کو یقینی بھی نہیں بنایا گیا۔‘
تحریری بیان کے مطابق ’دریں اثنا، تحریک (حماس) نے اپنے وعدوں کا مکمل احترام کیا ہے‘بیان کے مطابق ’صہیونی قیدیوں کی رہائی جو کہ سنیچر فروری 15، 2025 کو کی جانی تھی کو اب تاحکم ثانی معطل کیا جاتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اب اس کا انحصار معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد پر ہے۔ حماس نے کہا کہ ’ہم معاہدے کی شرائط کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں جب تک کہ قابض (اسرائیل) ان پر قائم رہے گا۔‘
دوسری جانب اسرائیل نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ غزہ میں ہر صورتحال کے لیے تیار ہے۔اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ’حماس کا اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی روکنے کا اعلان جنگ بندی معاہدے اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی مکمل خلاف ورزی ہے۔‘
اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ’میں نے اسرائیلی افواج کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ میں کسی بھی ممکنہ منظرنامے اور کمیونیٹیز (اسرائیلی شہریوں) کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر الرٹ اور ہر سطح پر تیار رہیں۔‘