محمد تقی (ناندیڑ)۔9325610858
وقت کسی کاانتظار نہیں کرتا ہے ۔ وقت کا پہیہ قدرت کے وضع کردہ قوانین اورقاعدوں کے مطابق 24 گھنٹے گھومتا رہتا ہے ۔ بدلتے وقت کے ساتھ ہی موسم بھی بدلتے ہیں ۔ موسم گُل کے بعد موسم پت جھڑ آتا ہے پھر وہی موسم گُل آتا ہے جو بہاریں لے آتا ہے۔پھول کھلتے ہیں ۔ چارسو خوشبوئیں پھیلتی ہیں ۔پودے ‘درخت ہرا لباس پہن لیتے ہیں ۔ بادِصبا اتراتی پھرتی ہے ۔ کلیاں چٹکنے لگتی ہیں۔چٹکنے کی آواز جمالیاتی حِس کو بیدار کرتی رہتی ہے۔ دلوں کو تازگی اور روح کوفرحت بخشتی ہے ۔کلیاںپھول بن جاتی ہیں اورپھول پھلوں کاروپ دھارلیتے ہیں۔پھر رفتہ رفتہ بہاروں کے واپسی کاسفرشروع ہونے لگتا ہے ۔سبزپتے زرد ہونے لگتے ہیں ۔ پتے بادِ صبا کے جھونکوں سے کھڑکنے لگتے ہیں اور ٹہنیوں سے ٹوٹ کر ادھر ادھر آوارہ گردی کرنے لگتے ہیں ۔ پھولوں کی سوکھی پتیاں جھڑنے لگتی ہیں ۔ اورانسان سمجھ جاتے ہیں کہ موسم خزاں کی آمدآمد ہے ۔ پت جھڑ شرو ع ہورہاہے ۔
اس طرح گردشِ لیل و نہار کے ساتھ ہی زمانے بدلتے رہتے ہیں ۔ زمانے کے مزاج اور روےے بھی بدلتے ہیں۔نئے انسان دنیا میں آتے ہیں اورپرانے جہانِ فانی سے رخصت ہونے لگتے ہیں ۔جانے والے کبھی نہیں آتے البتہ ان کی یاد آتی ہے ۔ان کی یادیں باقی رہے جاتی ہیں ۔ گزشتہ تین برسوں میںاس شہر مقدس اور شہر نگاراں ناندیڑ نے کئی برگزیدہ ‘نابغہ روزگار ‘ نامور ہستیوں کوکھودیا ۔ ان ہستیوں میںشاعر ‘ ڈرامہ نگار ‘ نقاد ‘اورنثر نگار شامل تھے ۔ ویسے اس شہرِ امان کی کئی شخصیتیں ہم سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئیں لیکن ہم یہاںصرف انہی کاذکرِ خیر کررہے ہیں جو اردو زبان و ادب کے حوالے سے معروف اورجانی پہچانی شخصیات تھیں۔
خیال ِیار‘کبھی ذکر یار کرتے رہے
اسی متاع پہ ہم روزگار کرتے رہے
قفس اُداس ہے یارو صباسے کچھ تو کہو
کہیں توبہرخدا آج ذکر ِ یار چلے
آئےے ! ہم سال 2018ءکارُخ کرتے ہیں ۔ اس سال شہر کی دو معروف ہستیاں ہم سے بچھڑ گئیں ۔مولانا محمد معین الدین صاحب قاسمی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ۔وہ نہ صرف مراٹھواڑہ بلکہ پورے دکن اورشمالی ہند میں بڑی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔عالم دین ‘نکتہ رس ادیب ‘ادبی صحافی ‘سحرالبیان خطیب اور ایک شفیق استاد تھے ۔وہ 31جون 2018 کوہم سے بچھڑ گئے پھراسی برس ماہ ستمبر2018 کے آخری ہفتہ میںناندیڑ والوں کیلئے ایک اور منحوس دن آیا ۔ اردو کے نامور ڈرامہ نگار ‘نثرنگار ‘اسٹیج کے فنکااو ر منجھے ہوئے مقرر میرے بے حد عزیزدوست پروفیسر انیس الحق قمر نے 62برس کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا ۔ مرحوم بڑی خوبیوں ‘صلاحیتوں کے مالک تھے ۔انھوں نے اردو ادب کواپنی دو قیمتی کتب دی ہیں۔ ایک ڈراموں کامجموعہ ”ہمالہ کی چاندی پگھلتی رہے “ اور دوسری تنقیدی ‘تحقیقی ومعلوماتی مضامین کامجموعہ ۔دن ‘ماہ و سال گزرتے گئے ۔ وقت کا پہیہ گھومتا راہ ۔ زندگی پوری آب و تاب کے ساتھ رواں رواں تھی کہ مارچ2020ءکو ساری دنیا پر کروناوباءکی آفت ناگہانی موت بن کر ٹوٹ پڑی ۔ دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں لوگ موت کی آغوش میںچلے گئے ۔ہمارے ملک ‘ریاست اور شہر میںکوروناوباءکا رقص ِموت ہونے لگا ۔ آناًفاناً لوگ مرنے لگے ۔ہر سوخوف و ہراس کاماحول تھا ۔لوگوں پر دہشت و وحشت طاری تھی ۔کچھ توکورونا مرض لاحق ہونے سے اورکچھ اس کے خوف اور دہشت سے دم توڑنے لگے ۔ پہلے ہمارے شہر کے ایک کہنہ مشق شاعر محترم اقبال رحمت ترابی ‘پھرعبدالغفاراہی‘ پروفیسریونس فہمی اور ان کے بعد ڈاکٹرفہیم احمد صدیقی پیرانہ سالی کے باعث اللہ میاں کوپیارے ہوگئے ۔ بہت کم عرصے میں ایک ایک کرکے چار نامور شاعروں کا اُٹھ جانا اردوزبان وادب کاناقابل تلافی نقصان تھا ۔ اس طرح ناندیڑ کی ادبی محفلیں ویران پڑگئیں ۔بہاریں روٹھ گئیں ۔مراٹھواڑہ کی اردوادبی تاریخ ان ملک گیر شہرت یافتہ شاعروں کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں سمجھی جائے گی۔اقبال رحمت ‘غفار راہی‘یونس فہمیاور فہیم احمد صدیقی سے میرے دیرینہ مراسم تھے بلکہ یوں کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ یہ تمام ہستیاں میرے ادبی سفر میں مشعل راہِ کی حیثیت رکھتی تھیں ۔ پروردگار ِ عالم انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔
ہم سفرساتھ چھوڑ جاتے ہیں
دور تک راستہ ہی رہتا ہے
اب اس شہر میں میرے ہم عصرفنکاروں اور خلوص منددوستوں میں ایک ہی شخصیت باقی رہے گئی جس کواردو دنیا فیروز رشید کے نا م سے جانتی ہے ۔ فیروزرشید کی مخملی مترنم آواز پورے ملک میں گونجا کرتی تھی۔ ملک بھرمیں ہونے والے آل انڈیا مشاعروں میں جب وہ شعر پڑھتے اور اپنے مخصوص انداز میں نظامت کرتے تو سامعین پر سحر طاری ہو جاتا تھا ۔ان کی نظامت ناکام مشاعروں کو کامیابی سے ہمکنار کردیتی تھی تو کمزورشاعروں کو مضبوط سہارا دیتی تھی اور پھر یہ شعراءمشاعرہ لوٹ لیا کرتے تھے۔آج اُس آواز کو کسی کی نظربد لگ گئی ہے کہ وہ وقت کے اندھیروں میں کہیں کھو گئی ہے۔فیروز رشید دیڑھ سال سے معذورہیں اور بستر علالت پر ہیں۔ مارچ 2021 میں ان پر فالج کا شدید حملہ ہوا تھا۔ جس کے بعد ان کی آوازبُری طرح متاثر ہوئی تھی ۔ان کے فرمانبردار دونوں بیٹوں نے ان کا کافی علاج معالجہ کروایا تو کچھ مہینوں بعد وہ رک رک کر بہت کم بولنے لگے ۔ ا ب بھی آواز میں تھرتھراہٹ اور زبان میں لُکنت ہے۔ چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔ ایک دور تھا کہ نغموں کی ابتدافیروز کے نام سے ہوا کرتی تھی۔
بھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجئے
تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجیے
نغموں کی ابتداءتھی کبھی میرے نام سے
اشکوں کی انتہاءہوں مجھے یاد کیجیے
فیروزہ رشید بھی فالج کی صعوبتوں سے گزر رہے تھے کہ ان پر ان کی اہلیہ محترمہ کی ناگہانی موت بجلی بن کر گری ۔چار ماہ قبل کوویڈ19 کے باعث ان کی رفیق حیات انہیں تنہا چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جاملی!اس صدمہ عظیم نے فیروزز کو یکاو تنہا کردیا ۔۔جب فیروز پر فالج کا حملہ ہوا تو ان کی اہلیہ کی آنکھوں سے آنسو مسلسل رواں تھے۔ اور وہ فیروز کے ساتھ ہر وقت سائے کی طرح رہتی تھیں۔اہلیہ کے غم سے فیروز پوری طرح ٹوٹ چکے ہیں۔چونکہ ناندیڑ فیروز کا وطن عزیز ہے بلکہ یہ ان کی کرم بھومی بھی ہے ۔اس لیے پونہ میں انھیں اپنے عزیزواقارب کی یاد ستا رہی تھی۔ چنانچہ وہ چند دن قبل پونے سے ناندیڑ آئے تھے۔ انہوں نے ظہیر الدین بابر کے ذریعے مجھے پیغام بھجوایا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں ۔22 اکتوبر 2021ءکو بعد نماز جمعہ میں اور ظہیر الدین بابر فیروز سے ملنے ان کے مکان پہنچے۔ وہ میرے بچپن کے دوست ہونے کے باعث میں ان سے ملاقات کا مشتاق تھا۔ویسے ان سے ملے مجھے ایک عرصہ بیت چکا تھا۔فیروز اور میں تقریبا ساٹھ سال سے بے غرض بے لوث دوستی کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ ہم جماعت ‘ہم مکتب رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ‘ خوشی اور غم میں ساتھ رہے ہیں۔ چنانچہ انھیں اپنے سامنے بیٹھا ہوا دیکھنا اور اُس سے گفتگو کرنا چاہتا تھا ۔ہم ان کے گھر کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تو دو افراد انہیں سہارا دے کر وہیل چیر پر بیٹھا کر ڈرائنگ روم میں لائے۔ مجھے دیکھتے ہی فیروز کے چہرے پر ہلکی سی مسرت بکھر گئی ۔پھر چند ہی لمحوں میں غائب ہوگئی۔ یہ کیفیت دیکھ کر میں اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکا۔ فیروز کی یہ حالت دیکھ کر دل بھر آیا۔ فیروز نے لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں اور ہاتھ کے اشارے سے میری خیریت پوچھی اور پھر خلاءمیں دیکھنے لگے ۔ان کی آنکھوں سے فسانہ درد و الم جھانک رہا تھا۔چہرے سے اداسی اور بے بسی چھلک رہے تھی۔ باوجود اس کے ساری گفتگو کے دوران فیروز نے کبھی یہ محسوس ہونے نہیں دیا کہ وہ اداس ہے ۔بہر کیف بڑی دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ احباب کا ذکر ہوا۔ پھر فیروز نے کہا کہ وہ پونے جارہے ہیں اور مستقل طور پر وہیں سکونت پذیر رہیں گے۔ فیروز نے زندگی میں بڑا نام کمایا۔ عزت اور شہرت دونوں ہاتھوں سے لوٹی۔ اپنے مداحین کا وسیع ترین حلقہ بنایا۔ اب اسے کچھ نہیں چاہئے ۔خداوند کریم فیروز کوعاجلانہ صحت کاملہ عطا کرے۔صبر‘سکون اورقراردے۔
اب نہ خواہش نہ حسرت نہ کوئی خلِش
کتنی بے کیف ہے زندگانی میری

