کلیان – مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے حاجی ملنگ درگاہ کا دورہ کیا اور اس موقع پر دعویٰ کیا کہ یہ مقام درگاہ نہیں بلکہ بابا مچھندر ناتھ کی سمادھی (ہندو مزار) ہے۔ انہوں نے درگاہ میں آرتی کی اور "جے شری رام” کے نعرے بلند کیے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں لوگوں کو بھگوا جھنڈا لہراتے اور نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جب کہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔
درگاہ کمیٹی نے اس دعوے کو بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور واقعے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
حاجی ملنگ درگاہ مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام ہے جہاں حضرت حاجی عبدالرحمن رحمہ اللہ علیہ کا مزار ہے، جبکہ کچھ ہندو تنظیمیں اس مقام کو ایک قدیم مندر قرار دیتی ہیں۔ درگاہ کے قریب پانچ دیگر مزارات بھی موجود ہیں، جنہیں "پانی پیر” یا "پیر ماچی” کہا جاتا ہے۔
یہ ایک حساس اور متنازع موضوع ہے جس میں مذہبی اعتقادات اور تاریخی دعوے شامل ہیں۔ حاجی ملنگ درگاہ کا مقام مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام ہے جہاں حضرت حاجی عبدالرحمن رحمہ اللہ علیہ کا مزار ہے۔ لیکن، کچھ ہندو تنظیمیں دعوی کرتی ہیں کہ یہ اصل میں ایک قدیم مندر ہے۔
مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے حاجی ملنگ درگاہ کا دورہ کرتے ہوئے وہاں آرتی کی اور "جے شری رام” کے نعرے بلند کیے، جس نے اس تنازع کو مزید ہوا دی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں لوگوں کو بھگوا جھنڈا لہراتے اور نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے، جس سے یہ موضوع مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
درگاہ کمیٹی نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے اور اسے بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اس معاملے میں دونوں طرف کے نظریات اور دعوے موجود ہیں، اور یہ اہم ہے کہ ہم ہر فرد کے مذہبی اعتقادات کا احترام کریں اور تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں۔
Maharashtra’s deputy chief minister #EknathShinde accompanied by his security personnel and top officials entered the revered #HajiMalangDargah located in the #Mumbai metropolitan region in #Thane during Urs celebrations and performed aarti at the Sufi grave site.
Shinde also… pic.twitter.com/x423LauJg6
— Hate Detector 🔍 (@HateDetectors) February 15, 2025