نئی دہلی:سپریم کورٹ کے جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی لیگل سروسز کمیٹی نے ایک اہم پیش رفت سے متعلق فیصلہ لیا ہے۔ کمیٹی ملک بھر کے ان سبھی قیدیوں کی قانونی امداد کرے گی، جو جیل سے باہر آنے کے اہل ہونے کے باوجود ابھی تک قید و بند کی صعوبت برداشت کر رہے ہیں۔ یعنی ہزاروں قیدیوں کی قسمت کھلنے والی ہے۔ 3 مہینے کی طویل جدوجہد کے بعد ایسے قیدیوں کی تعداد تقریباً 4200 پائی گئی ہے۔
سپریم کورٹ لیگل سروسز کمیٹی کے سربراہ جسٹس سوریہ کانت نے یکم اپریل (منگل) کو سبھی ریاستوں کی لیگل سروسز اتھارٹی اور ہائی کورٹ کی لیگل سروسز کمیٹی کے صدور سے بات کی۔ انھوں نے ہدایت دی کہ اس طرح کے قیدیوں کی فائل سپریم کورٹ لیگل سروسز کمیٹی کو بھیجی جائے تاکہ انھیں قانونی مدد فراہم کرواتے ہوئے ان کی طرف سے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی جا سکے۔
سبھی ریاستوں کے جیل ڈائریکٹر جنرل اور ہائی کورٹ لیگل سروسز کمیٹی کی کوششوں سے 3 زمرہ کے قیدیوں کی شناخت کی گئی ہے، جنھیں جیل سے آزادی مل سکتی ہے۔ وہ زمرے اس طرح ہیں:جن کی اپیل ہائی کورٹ سے خارج ہو چکی ہے۔
جو اپنے جرم کے لیے قانون میں طے زیادہ سے زیادہ سزا میں نصف سے زیادہ حصہ جیل میں گزار چکے ہیں اور جنھیں ہائی کورٹ نے ضمانت نہیں دی ہے۔