ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں "ناری شکتی" کی عظمت کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت ان دعوؤں کے بالکل برعکس ہے۔
حال ہی میں "مدھیہ پردیش" کے ضلع خانوادا کے خلوا علاقے میں ایک 45 سالہ قبائلی خاتون کے ساتھ جو ظلم ہوا، وہ ان کھوکھلے نعروں کو شرمسار کرنے کے لیے کافی ہے۔ اُس خاتون کو نہ صرف اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، بلکہ اس کے جسم کو لوہے کی سلاخ سے چیرا گیا، اور اسکا رحم اس کے پیٹ سے نکالا گیا، اس وحشیانہ ظلم کی تاب نہ لاکر وہ خاتون چل بسی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے ان سفاک مظالم کی تصدیق کی، اور محض دو افراد کی گرفتاری پرمعاملہ دبا دیا گیا۔
کل کا علی گڑھ کا واقعہ: وہی پرانا الزام "گاؤ کشی" نوجوانوں کو سرِ عام بری طرح پیٹا گیا، ان کے کاغذات چھین لیے گئے۔ *سال بیت گئے مگر چال نہ بدلی*
اس سے پہلے اتر پردیش میں: ایک ادھیڑ عمر کے شخص کے ساتھ زیادتی کی گئی۔
ہندتوائی تشدد کا شکار بنے افراد کی حالت دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کرنے والوں کو اس میں مزہ آتا ہے، ورنہ ایسی بے رحمی اور بربریت انسانیت سے ماورا ہے۔ وہ صرف جسمانی طور پر انسان ہے اندر سے وہ حیوانیت کی تاریکی میں گم ہوچکے ہیں۔
ہم مذہب کی بات نہیں کرتے، مگر انسانوں کی بستی میں رہ کر انسانوں جیسے کام تو کرو، سور اور کتے جیسی حرکتیں کرنے والوں کو اسی قماش کے حیوانوں کی صف میں رکھنا پڑتا ہے۔
اصل مسئلہ ہمارے ملک کے ان نفرتی سیاست دانوں کا ہے جنہوں نے اکثریتی سماج کے دلوں میں اتنا زہر گھول دیا ہے، کہ اب ایک وحشی نما انسانوں کی بھیڑ کسی کمزور پر طاقت آزماتے ہوۓ فخر محسوس کرنے لگتی ہے۔ کسی بے بس و بے سہارا کو "جے ایس آر" کے نعرے لگانے پر مجبور کرنا انہیں اپنی قوم میں عزت سے نوازتا ہے۔کسی برقہ پوش تنہا خاتون کے سامنے مردانگی دکھانے پر انہیں اپنی گھر کی عورتوں سے تالیاں ملتی ہے۔ اب خواتین کی عزت ان کے یہاں صرف جلسوں اور تقریروں تک محدود ہے، زمین پر وہ بے سہارہ ہے، اور بے رحم سماج کے سامنے لاچار کھڑی ہے۔ان کے تشدد پسند رہنماؤں کے بھاشن سن کر ان لوگوں کا برین ایسے واش ہوگیا کہ ان کو اب بس ایک ہی سوجھتی ہے، کہ ہم مالک ہے، ہم آقا ہے، اور باقی سب غلام، کیوں کہ ہم اکثریت میں ہے۔
اصل مجرم صرف وہ ہاتھ نہیں جو مار رہے ہیں، بلکہ وہ زبانیں بھی ہیں جو نفرت اُگلتی ہیں۔
جمہوریت کا نعرہ لگا کر، اسی جمہوریت کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا عمل جاری ہے۔ گاندھی جی کے دیے گئے سمویدھان کو روند کر نفرت کی راہ پر ملک کو دھکیلا جارہا ہے۔
یہ واقعات اب اِکَّا دُکَّا نہیں رہے، ہر دن ایسے کئی بھیانک واقعات سوشل میڈیا کی زینت بنتے ہیں، ہر نیا دن ایک نئی بے حسی اور ظلم کی کہانی لے کر آتا ہے۔
یہ واقعات صرف متاثرہ فرد پر ظلم نہیں، بلکہ پورے جمہوری نظام پر حملہ ہے۔
یہ واقعات سوال ہے اس سسٹم پر جسے سالمیت کا امین کہا جاتا ہے۔ یہ واقعات سوالیہ نشان ہے ان سیاسی رہنماؤں پر جو اپنی قوم کو انسانیت کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ سوال ہے ان منافقوں سے جو پہل گام جیسے واقعات پر تو بے لگام بولتے ہیں، لیکن ایسی کھلی دہشت گردی پر ان کے منہ پر تالے ہیں۔ سوال ہے ان ہزاروں وردی پوش افسران سے جن کا کام اب بجز تماشائی کے اور کچھ نہیں رہ گیا۔
*کرسی ہے، تمہارا یہ جنازہ تو نہیں*
*کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے*
اگر ایسے واقعات کے بعد گرفتاری ہوتی بھی ہے تو صرف رسمی کاروائی کے طور پر، جن میں انصاف کی کوئی رمق باقی نہیں۔ سرکاری بیانات محض تسلیوں سے آگے نہیں بڑھتے، کہا جاتا ہے کہ ‘فکر کی کوئی بات نہیں، ہماری پولیس نے مجرموں کو پکڑ لیا ہے’ اب انہیں کیسے بتایا جاۓ کہ فکر کرنے کیے مظلوم کی جان بچی ہی کہاں ہے۔ صرف مظلوم کی داد رسی ظلم کو نہیں روکتی۔ ظالموں کے ہاتھ کاٹنے ہوگے۔ تم یہ کیوں نہیں کہہ سکتے کہ ہم ایسے معاملات کو روکنے لیے فلاں فلاں اقدام کرنے والے ہیں، کہ جس اقدام کے بعد رام رحیم اور گیتا فاطمہ جیسے لوگ اپنے گھروں کا دروازہ بند کرکے چین سے سوسکے، اور یہ کہہ سکے کہ ہمارا ووٹ درست جگہ پر لگا ہے۔
وہ تو احسان ہے بعض سوشل میڈیائی صحافیوں کا جو سچ کا ساتھ دیتے ہوۓ ایسے واقعات کو اجاگر کرتے ہیں، لیکن میں اسٹریم میڈیا کی خاموشی اور سیاسی عہدے داروں کی بے حسی سسٹم کے دوہرے معیار کو واضح کرتی ہے۔
اس دوہرے معیار پر سوال کرتا ہے ملک کا ہر ایک شہری کہ کیا میڈیا صرف اقتدار میں آنے والی پارٹی کے لیے بولے گا؟ کیا حکمران کچھ اقدام لے گے جس سے ہر شہری کو یقین ملے کہ ہم محفوظ ہے؟ کیا اس حکومت میں کبھی ایسا سورج طلوع ہوگا؟ جو عدل و انصاف کے ساۓ میں ہر شہری کو تحفظ دے اور ظلم و زیادتی کے بغیر ڈھلے………..
✍️ *ف: الحق*
sf356605