AFPسعودی عرب نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا تھا تاہم سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ایسا ایک ’بلااجازت کی جانے والی کارروائی‘ میں کیا گیا۔
ادھر سعودی بادشاہ شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے بیٹے کو ٹیلیفون کر کے ان سے تعزیت بھی کی ہے۔
ادھر ترک چینل این ٹی وی نے پیر کو بتایا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تفتیش کے سلسلے میں استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے کے پانچ سعودی ملازمین بطور گواہان اپنا بیان دے رہے ہیں۔
اس سے قبل قونصلر کے ڈرائیور سمیت 20 ملازمین ترک پولیس کو اپنے بیانات ریکارڈ کروا چکے ہیں۔
سی این این ترک کے مطابق کل 45 ملازمین سے بیانات لیے جائیں گے۔
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ اقدام ایک ’بڑی غلطی‘ تھی تاہم ان کا اصرار تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صحافی کی ہلاکت کا حکم نہیں دیا اور وہ اس ساری کارروائی سے لاعلم تھے۔
جمال خاشقجی کے قتل پر شدید عالمی ردعمل سامنے آیا ہے اور سعودی عرب پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ حقائق سامنے لائے جبکہ ترکی نے کہا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں دنیا کے سامنے اس سلسلے میں ’کھلا سچ‘ پیش کر دے گا۔
جمال خاشقجی دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ ترک حکام نے ان کی گمشدگی کے چند دن بعد ہی کہہ دیا تھا کہ انھیں قتل کر دیا گیا ہے تاہم سعودی حکام اس سے انکار کرتے رہے تھے۔
گذشتہ ہفتے سعودی حکام نے جمال خاشقجی کی ہلاکت کی تصدیق تو کی تھی تاہم کہا تھا کہ وہ ایک لڑائی کے دوران دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔
تاہم اب اس واقعے کو سعودی حکومت نے ایک ’روگ آپریشن‘ یعنی بلااجازت باغیانہ کارروائی قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے صحافی جمال خاشقجی کی موت کی تصدیق کے بعد ترکی نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ جمال خاشقجی کی موت کی تمام تفصیلات جاری کرے گا اور کسی کو اس معاملے میں پردہ پوشی کی اجازت نہیں دے گا۔
’باغیانہ کارروائی‘
سعودی وزیرِ خارجہ کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ ’ہم تمام حقائق جاننے اور اس قتل کے تمام ذمہ داران کو سزا دینے کے لیے پرعزم ہیں۔‘
عادل الجبیر نے کہا کہ ’جن لوگوں نے یہ کیا ہے انھوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک بہت بڑی غلطی ہوئی اور اس کے بعد اسے چھپانے کے سلسلے میں یہ غلطی کئی گنا بڑھ گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ جمال جاشقجی کی لاش کہاں ہے اور ان کا اصرار تھا کہ ولی عہد محمد بن سلمان اس آپریشن سے بالکل بےخبر تھے۔
’ہماری انٹیلیجنس سروس کے اعلیٰ افسران کو بھی اس آپریشن کا معلوم نہیں تھا۔ یہ ایک بلااجازت کی جانے والی کارروائی تھی۔‘
GETTY IMAGESسعودی عرب کے سرکاری ٹی وی کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے بعد نائب انٹیلی جنس چیف احمد العسیری اور ولی عہد محمد بن سلمان کے سینیئر مشیر سعود القحطانی کو بھی برطرف کر دیا گیا ہے اور 18 سعودی شہریوں کو بھی حراست میں لے کر شامل تفتیش کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی دباؤ اور ردعمل
گذشتہ چند روز سے سعودی عرب پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ صحافی جمال خاشقجی کی موت کے واقعے کے بارے میں مزید سوالات کا جواب دے۔
سنیچر کو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سعودی وضاحت ’دھوکے‘ اور ’جھوٹ‘ پر مبنی ہے۔ اس سے پہلے ان کا کہنا تھا کہ وہ سعودی وضاحت کو قابلِ بھروسہ سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں خوشی ہو گی اگر سعودی ولی عہد قتل کے ذمہ داران میں شامل نہیں پائے جاتے۔ امریکی صدر نے اس معاملے میں سعودی عرب پر پابندیاں عائد کرنے کے امکان پر بھی بات کی تاہم یہ بھی کہا کہ سعودی عرب سے اسلحے کے سودے کو روکنا ’ہمیں(امریکہ کو) ان سے کہیں زیادہ نقصان دے گا۔‘
جمال خاشقجی واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرتے تھے اور اخبار نے کہا ہے کہ سعودی حکومت شرمناک طریقے سے اور بار بار ایک کے بعد دوسرا جھوٹ بول رہی ہے۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی ایک مشترکہ بیان میں جمال خاشقجی کی ہلاکت پر تفصیلی وضاحت طلب کی ہے اور کہا ہے کہ ’اس ہلاکت کی کوئی بھی توجیح پیش نہیں کی جا سکتی اور ہم سخت ترین الفاظ میں اس کی مذمت کرتے ہیں۔‘
AFPادھر سعودی عرب کے علاقائی ساتھی اس کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔
کویت کی جانب سے اس معاملے سے نمٹنے کے سلسلے میں شاہ سلمان کی پذیرائی کی گئی ہے جبکہ مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی اسی قسم کے بیانات سامنے آئے ہیں۔
بشکریہ بی بی سی اردو