جلگاؤں ١٩ ِجون( سعیدپٹیل کےذریعے )آج بروز بدھ دوپہر بارہ بجےقومی آدیواسی ایکتا پریشد ،قومی آدیواسی طلباء تنظیم ،انڈین میڈیکل پروفیشنل اسوسیشن ،بھارتیہ طلباء و طالبات تنظیم ،قومی ظلم زیادتی راحت شکتی کی قیادت و رہنمائ میں شیوترتھ جی۔ایس گراؤنڈ سے ریاستی سطح پر جلگاؤں کی رہائیش پذیر ڈاکٹرطالبہ پائل تڑی خودکشی معاملے کےخلاف دیگر تقریباً پچاس سے زائد سماجی تنظیموں کی جانب سے ڈاکٹر پائل تڑوی کےقتل کی مذمت کرنے کےلۓ احتجاجی ریاستی سطح کا مہا جن آکروش مورچہ ضلع کلیکٹر دفتر لیجایا گیا۔ مرحومہ ڈاکٹرپائل تڑوی اپنی ساتھی سینیئر ڈاکٹر انکیتا کھنڈیلوال ،ڈاکٹر ہیما آہوجا اور ڈاکٹر بھکتی میھیرے کی نسلی منافرت و ذات پات کے بھید بھاو کۓ جانے سے گذشتہ دو برسوں سے ذہنی تناو میں تھیں ۔جس کی ڈاکٹر پائل نے نائیر اسپتال کے اعلی انتظامیہ سے شکایت بھی کی تھیں ۔لیکن اس تعلق سے اسے کوئ تعاون نہیں ملاااور تینوں ڈاکٹروں کی جانب سے ریگینگ کا سلوک جاری رہا۔جہاں اہم مطالبات ضلع کلیکٹر کےذریعے مہاراشٹر حکومت سےکۓگۓہیں۔قبل ازیں جی۔ایس میدان پر تنظیموں کے عہدیداران و نوجوانان ،مرد و خواتین کی کثیرتعداد نے مختلیف رنگوں کےپرچم و ڈاکٹر پائل تڑوی کےلۓ مطالبات کی سلیٹیں ہاتھوں میں لۓ اکٹھا ہوکر اپنےمطالبات کا اعادہ کیا۔فاسٹ ٹریک عدالت کےذریعے فوری طورپر فیصلہ کیاجائے ،پوسٹ مارٹم کیاجائے ،تینوں ملزمین خاتون ڈاکٹروں کا نارکو ٹیسٹ کیاجائے ،ایٹروسیٹی قانون کےمطابق کاروائ کی جاۓ ،تینوں ملزمین پرانسانی قتل کا کیس درج کیاجائے ،تینوں ڈاکٹروں کو ملازمت سے معطل کیاجائے ،تینوں ڈاکٹروں کی ڈگری منسوخ کی جاۓ ،متعلق نائیر اسپتال انتظامیہ پرکاروائ کی جاۓ اور ڈاکٹر پائل کےمتاثر خاندان کو نقصان بھرپائ کےطور پر ایک کروڑ روپیۓ کی مدد دی جاۓ۔مورچہ کے جم غفیر سے بام سیف کےقومی صدر وامن میشرام ،قومی آدیواسی ایکتا پریشد کے صدر پریم کمار گیڈام ،بہوجن کرانتی مورچہ کے راجیندر کھرے ،قومی مسلم مورچہ کےصدر مولانا ازہری ،ڈاکٹر پائل کے شوہر ڈاکٹر سلمان تڑوی اور ڈاکٹر پائل کی والدہ عابدا تڑوی وغیرہ نے خطاب کیا و مذکورہ بالا مطالبات کا حکومت مہاراشٹر سے مطالبہ کیا۔ تقریباً پندره سے زائد عہدداران کے وفد نے ضلع کلیکٹر کے ذریعے حکومت کو اپنے مطالبات کی کاپی پیش کی ۔ مورچے میں سماج برادران سمیت دیگر سماجوں و برادریوں نیز انصاف پسند حضرات نے کثیرتعداد میں شرکت کیں۔
