جب آپ یہ پڑھ رہے ہوں گے تب تک شاید وہ مر چکے ہوں گے،

میگھالیہ میں کوئلے کی کان میں مزدوروں کے پھنسنے کی اطلاع ملنے کے ایک دن بعد 60 سال کے ایک بزرگ 400 کلومیٹر کا سفر طے کر گارو ہلس کے راجابالا پہنچے ۔ وہ اس جگہ پر دھرنے پر بیٹھ گئے جہاں کوئلے کی کان میں داخل ہونے سے پہلے ان کے دو پوتوں کو آخری بار دیکھا گیا تھا۔ اس دوران وہاں بچاو کا کام جاری ہے۔ این ڈی آر ایف کی ٹیم اور میڈیا بھی پہنچ چکی ہے۔ دریں اثنا، بزرگ مید لگائے بیٹھے رہے۔

کوئلے کی کان سے کچھ میٹروں کی دوری پر ہی ان کی جھوپڑیاں ہیں، جو 14 دن سے کان کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ ان جھوپڑیوں میں اگر کچھ بچا ہے تو بس ٹوٹے انڈوں کے چھلکے، گندی پرانی چپلیں، پلاسٹک کی خالی بوتلیں اور زمین پر کوئلے کی موٹی پرت۔ حادثہ کے 13 دن بعد وہ بزرگ انتظار کرتے ہوئے تھک گئے اور اپنے گاوں واپس لوٹ گئے۔دریں اثنا راحت اور بچاو کی ٹیم وہاں بیٹھ کر ریاستی حکومت کے اگلے حکم کا انتظار کر رہی ہیں۔ اب این ڈی آر ایف آچکی ہے تو ان کا کام تقریبا ختم ہو چکا ہے۔ وہیں این ڈی آر ایف کی ٹیم اس انتظار میں ہے کہ کان سے پانی نکالنے کے لئے حکومت پمپ فراہم کرے۔ تو دوسری جانب حکومت اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ کوئی پانی نکالنے کے لئے خاص پائپس کا انتظام کرنے میں ان کی مدد کرے۔

شلانگ سے تقریبا 3 گھنٹے کے سفر کے بعد لمتھاری گاوں پڑتا ہے، جہاں کوئلے کی کان میں 13 دسمبر سے مزدور پھنسے ہوئے ہیں۔ کان میں پھنسے مزدوروں کے گھر والوں کا انتظار ختم نہیں ہو رہا ہے۔ اہل خانہ صرف ایک بار ان کا چہرہ دیکھ لینا چاہتے ہیں،، پھر چاہے ان کی لاش ہی کیوں نہ باہر نکلے۔مرگمارائی گاوں کے 55 سالہ شوہور علی کا 18 سال کا بیٹا، 35 سال کا بھائی اور 26 سال کا داماد، تینوں کان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’ اس کان کے سردار نے میرے بیٹے، بھائی اور داماد کو اس نوکری کا آفر دیا تھا۔ کام کے بدلے انہیں ہر دن 1000 روپیے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انہیں پھوٹی کوڑی نہیں ملی اور نہ وہ واپس آئے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading