محمد ظفر اسٹوڈنٹ آف جامعہ ملیہ اسلامیہ
کل 15/12/19کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ہزاروں اسٹوڈنٹس صبح ہی سے CAA اور NRC کی مخالفت میں پرامن احتجاج کررہے تھے ، اور تین بجے شام تک اسی طرح پرامن احتجاج جاری رہا ، تین بجے شام کو مزید ہزاروں کی تعداد میں آس پاس کے علاقوں کے شہریوں نے بھی شرکت کی اور پرامن طریقے سے ہاے وے کو جام کرتے ہوے نیشنل ہاے وے کی طرف بڑھے جہاں پولیس نے ہم مظاہرین کو روکنے کی مکمل تیاری کر رکھی تھی ،اور ہمیں پتہ تھا کہ آگے کسی بھی قیمت پر ہمیں بڑھنے نہیں دیا جاۓگا لہذا اسی جگہ بیٹھ کر CAB کے خلاف نعرے بازی کرنے لگےاور ابھی تک امن و امان برقرار تھا۔
درایں اثناء ایک اور ٹولہ ہمارے پیچھے آیا جن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں اور پتھر تھے ،انھوں نے آتے ہی دور ہی سے پولیس کے اوپر پتھراؤ شروع کردیا ،جس سے کچھ افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا اور پولیس نے جوابا ہمارے اوپر پتھر پھینکنا شروع کیا اور لاٹھیاں برسانے لگے پھر آنسو گیس چھوڑ نے لگے ۔ وہ لوگ جنہوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا تھا وہ چوں کہ ہمارے پیچھے تھے اس لیے وہ بھاگنے میں آگے رہے اور بھاگتے ہوے کاروں کے شیشے توڑنے لگے اور گاڑیوں کو نقصان پہنچانے لگے ہم جامعہ کے اسٹوڈنٹس نے اور معزز شہریوں نے بھی انھیں زبردستی رو کنے کی کوشش کی اور کار کے ان مالکان کو جو اس وقت وہاں موجود تھے ان سے اظہار افسوس کیا اور انھیں بتایا کہ شاید ہمارے درمیان کچھ شر پسند عناصر گھس آۓ ہیں وہ ایسا کر رہے ہیں وہ ہمارے ساتھیوں میں سے نہیں ہیں ہم پر امن طریقے سے احتجاج کررہے ہیں ۔
ادھر پولیس ہمارے اوپر قہر برپا کیے جارہی تھی مسلسل آنسو گیس کے گولے فائر کیے جاتے رہے پتھراؤ بھی ہوتا رہا جس سے کئ اسٹوڈنٹس زخمی ہوگئے ۔لہذاہم تیزی کے ساتھ جامعہ روڈ کی طرف ڈوڑنے لگے اور وہاں جاکر رک گئے ادھر خود پولیس نے جامعہ اسٹوڈنٹس کو بدنام کرنے کےلیے تین بسوں کو آگ لگادی۔ مگر ان کے اس کرتوت کو نیشنل میڈیا نے اجاگر کر دیا اور واضح طور پر دکھایا کہ کس طرح پولیس نے خود ہی آگ لگائی ہے۔۔
بہرحال جامعہ روڈ پر پہونچ نے کے بعد طلباء قدرے مطمئن ہوے کہ گویا ہم اپنے گھر میں ہیں اب آنسو گیس اور پتھراؤ تھم جائیں گے، مگر ہمیں اس وقت نہایت حیرانی ہوئی جب یہاں آکر پولیس کا رویہ مزید سخت ہو گیا اور آنسو گیس تسلسل کے ساتھ چھوڑنے لگے پوری فضا گیس آلودہ ہو گئی اور آنسو گیس کے گولے بجاۓ آسمان کے ہمارے سروں پر چھوڑے جانے لگے ،اسی درمیان کچھ گولیاں بھی چلنے کی آوازیں سنائی دیں اسٹوڈنٹس مکمل طور پر دہشت زدہ ہوگیے کہ آج ہمارے ساتھ یہ کیا ہو رہاہے لہذا آگے کے طلباء ڈٹ گیے اور پیچھے ہٹنے سے عملی طور پر انکار کیا، مگر پولیس نے بربریت کا اظہار کیا اور بے تحاشا لاٹھیاں چلانے لگی جس کی وجے سے سینکڑوں طلباء زخمی ہوے اور کچھ شدید طور پر زخمی ہوگئے لہذا مجبور ہوکر ہم جامعہ کیمپس میں داخل ہو گیے مگر پولیس بغیر اجازت جامعہ میں بھی گھس آئی اور نہایت بے رحمی کے ساتھ طلباء و طالبات کو پیٹا اور آنسو گیس چھوڑتے رہے اور وہ زخم خوردہ جن کے اندر بھاگنے کی سکت نہیں تھی انکی مزید پٹائی کرکے گرفتار کرتے رہے پھر پولیس جامعہ کی ریڈنگ ہال اور مسجد میں بھی گھس کر اپنی لاٹھیوں سے شیشوں کو توڑا اور لائٹس آف کرکے آنسو کے گولے چھوڑے اور وہاں پڑھ رہے طلباء و طالبات کو نہایت بے دردی سے مارا کئی طلباء آنسو گیس کی تاب نہ لاکر بے ہوش ہو گیے جامعہ کے گارڈ جو ڈیو ٹی پر تھے انھوں نے مزاحمت کرنے اور ہمیں بچانے کی کوشش کی تو انہیں بھی پیٹ دیا مسجد میں مغرب کی نماز ہو رہی تھی وہاں بھی پولیس گھس گئی اور اسٹوڈنٹس کے ساتھ امام کو بھی مارا جامعہ کے تمام گیٹس پر پولیس قبضہ کر چکی تھی، جامعہ کے سیکورٹی گارڈز بے بس تھے اور آنسو گیس سے بے حال ہو چکے تھے ،پولیس نےجس جگہ اور جس حالت میں بھی اسٹوڈنٹس کو پایا مارا اور گرفتار کیا ہر طرف طلباء و طالبات کی آہو بکا اور چیخ و پکار کی آوازیں آرہی تھیں یہاں تک کہ چیف پراکٹر کی آفس میں انہوں نے گولے داغے ، پولیس حیوانیت و درندگی پر اتر آئی تھی تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک پولیس کا جو رو جفا ، ظلم و ستم طلباء و طالبات پر جاری رہا اس میں دو سو طلباء و طالبات زخمی ہوئے اور کئی شدید طور پر زخمی ہوگئے جامعہ لائیبریری کی فرش ، مسجد اور جامعہ کی زمین لہولہان تھی اور جامعہ کے طلباء و طالبات پر ظلم و بربریت کی تمام حدوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور ہمارا جرم صرف اتنا تھا کہ ہمارے ہاتھوں میں ایک کاغذ کا ٹکڑا تھا جس پر لکھا تھا کہ:
” دستور بچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو