سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی تصویروں میں یہ شخص ہوا میں پستول لہراتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ پولیس جب اس شخص کو گرفتار کر کے لیجا رہی تھی تب میڈیا نے اس سے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے، جواب میں اس نے کہا رام بھکت گوپال۔
FB/RAMBHAKTGOPALہم نے جب فیس بک پر اس نام کے شخص کو تلاش کیا تو فائرنگ سے پہلے کی کچھ معلومات حاصل ہوئیں۔
رام بھکت گوپال کے اکاؤنٹ سے فائرنگ کے موقع سے ہی تمام تفصیلات پوسٹ کی جا رہی تھیں۔
فیس بک فیڈ کی کئی پوسٹس میں یہ شخص خود کو ہندوتوا کا حامی بتاتا ہے۔ اس پروفائل میں پہلے شیئر کی جانے والی کچھ تصویروں میں رام بھکت گوپال بندوق اور تلوار لیے دکھائی دے رہا ہے۔
فائرنگ سے پہلے گوپال نے کب کب اور کیا کیا لکھا
30 جنوری کی صبح 10:43 برائے مہربانی تمام بھائی مجھے دیکھ لیں۔
10:43 جلدی ہی بتا دوں گا۔
12:53 جامعہ علاقے سے فیس بک لائیو جس میں ہجوم دکھائی دے رہا ہے۔
1:00 بہن ۔۔۔۔ آ رہا ہوں۔
1:00 آزادی لے رہا ہوں۔
1:00 میں یہاں اکیلا ہندو ہوں۔
1:09 کال مت کرو۔
1:14 میری انترم یاترہ ( آخری رسومات) میں مجھے بھگوا (نارنجی رنگ کا کپڑا) میں لپیٹ کر لیجائیں اور جے شری رام کے نعرے ہوں۔
1:22 کوئی ہندو میڈیا نہیں ہے یہاں۔
1:25 شاہین باغ کھیل ختم۔
اس کے بعد وہ کچھ اپنے فیس بک لائیوز میں بیگ اٹھائے موقع پر نظر آ رہا ہے لیکن ان ویڈیوز میں وہ کچھ بولتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔
FB/RAMBHAKTGOPALگوپال کا تعلق کہاں سے ہے؟
دلی پولیس کے مطابق حملہ آور گوپال نوائیڈہ علاقے سے ملحق جیور کا رہنے والا ہے۔ جہاں انٹر نیشنل ائیر پورٹ بننے والا ہے۔
وہ فیس بک پیج جسے گوپال سے جوڑا جا رہا ہے اس پر لکھا ہے کہ ‘رام بھکت گوپال نام ہے ہمارا، بائیو میں اتنا ہی کافی ہے باقی درست وقت آنے پر جے شری رام!
اس فیس بک پیج پر گوپال نامی شخص خود کو ہندو شدت پسند تنظیم بجرنگ دل کا رکن بتاتا ہے۔ بجرنگ دل آر ایس ایس سے وابستہ تنظیم ہے۔