تھانے ریلوے اسٹیشن پر ہندوستانی ریلوے کا 172 واں یومِ تاسیس جوش و خروش سے منایا گیا جہاں سے پہلی ٹرین روانہ ہوئی، وہیں ریل کی وراث ت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا

تھانے ریلوے اسٹیشن پر ہندوستانی ریلوے کا 172 واں یومِ تاسیس جوش و خروش سے منایا گیا

جہاں سے پہلی ٹرین روانہ ہوئی، وہیں ریل کی وراثت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا

تھانے (آفتاب شیخ)
16 اپریل 1853 کو تھانے سے بوری بندر (ممبئی) تک 34 کلومیٹر طویل سفر پر روانہ ہونے والی ایشیا کی پہلی مسافر ٹرین کی یاد میں بدھ کے روز تھانے ریلوے اسٹیشن پر ہندوستانی ریلوے کا 172 واں یومِ تاسیس بھرپور جوش و خروش سے منایا گیا۔

اس تاریخی موقع پر تھانے ریلوے اسٹیشن پر ایک پروقار تقاریب منعقد ہوئی جس میں رکن پارلیمنٹ نریش مہسکے، مقامی رکن اسمبلی سنجے کیلکر، اسٹیشن ماسٹر کیشو تاوڑے، ریلوے افسران، شری ریلوے مسافر ایسوسی ایشن، یووا سینا کے نمائندگان اور بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے۔ تقاریب کے دوران کیک کاٹا گیا، بینڈ باجے کے ساتھ جشن منایا گیا، اور ریلوے کے محنتی ملازمین کو گلپوشی اور تحائف کے ذریعے خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

ایک تقریب کر دوران رکن پارلیمنٹ نریش مہسکے نے اس موقع پر کہا کہ "ریلوے، تھانے اور ممبئی کے شہریوں کے لیے محض ایک سفری سہولت نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جس نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو جوڑے رکھا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہندوستانی ریلوے کا آغاز تھانے سے ہوا۔" انہوں نے ریلوے کے مختلف مسائل پر ایوان میں مسلسل آواز اٹھانے کے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

وہی دوسری تقریب میں موجود مقامی ایم ایل اے سنجے کیلکر نے کہا کہ تھانے میں پہلی ٹرین کا انجن ہونا شہر کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس تاریخی یادگار کی خوبصورتی اور حفاظت کے لیے ان کی کوششیں جاری رہیں گی۔

تاریخی اہمیت کے حامل تھانے اسٹیشن پر نمائش کے لیے رکھا گیا پہلا انجن شہریوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ مقامی شہریوں نے اس انجن کی حالت بہتر بنانے اور اسے مزید محفوظ انداز میں پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

ان تقاریب کا اہتمام ریلوے مسافروں کی ایسوسی ایشن، تھانے ریلوے انتظامیہ اور یووا سینا کے نتن لانڈگے، نند کمار دیشمکھ، سدھاکر پتنگراو کی کوششوں سے عمل میں آیا۔

ریلوے کی یہ سالگرہ نہ صرف ایک تاریخی جھلک ہے بلکہ یہ آج بھی ملک کی سماجی، اقتصادی اور ثقافتی ترقی کا لازمی جزو ہے۔ تھانے میں ہر سال اس دن کو منانا نئی نسل کو اپنے ورثے سے جوڑنے کی ایک خوبصورت روایت بن چکی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading