تھانے جیل میں قائم ہوگا تاریخی میوزیم، دیوالی تک عوام کے لیے کھول دیا جائے گا
رکن اسمبلی سنجے کیلکر کی پہل، مجاہدین آزادی کی قربانیوں کی جھلکیاں پیش کی جائیں گی
تھانے، 17 جون (آفتاب شیخ)
تھانے شہر کی تاریخی وراثت کو محفوظ رکھنے اور آزادی کی جدوجہد میں شامل مجاہدین کی قربانیوں کو نئی نسل تک پہنچانے کے مقصد سے تھانے جیل میں خصوصی میوزیم قائم کیا جا رہا ہے۔ اس میوزیم کی پہل اور منصوبہ بندی مقامی رکن اسمبلی سنجے کیلکر نے کی ہے۔ انہوں نے منگل کو ماہرین کے ہمراہ جیل کا دورہ کرکے کام کا معائنہ کیا اور بتایا کہ دیوالی تک یہ میوزیم عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔
اس موقع پر معروف مؤرخ مکرند جوشی، مجسمہ ساز ورشا ریڈی، پرگیا مہاترے، جیل سپرنٹنڈنٹ رانی بھوسلے اور دیگر افسران موجود تھے۔ میوزیم میں 1737 سے 1947 کے درمیان تھانے کی آزادی کی جدوجہد سے متعلق واقعات کو مجسموں کے ذریعے اجاگر کیا جائے گا۔ ان مجسموں کی تیاری کا کام ورشا ریڈی کر رہی ہیں اور تاریخ دان پانڈورنگ بلکاوڑے ان کی رہنمائی کر رہے ہیں۔
میوزیم میں تقریباً پانچ فٹ اونچے مجسموں کے ذریعے مجاہدین آزادی کی داستانیں پیش کی جائیں گی۔ اس میں اس مقام کی مکمل تاریخ بیان کی جائے گی کہ کس طرح یہاں پہلے تھانے قلعہ تھا، پھر پرتگالیوں نے اس کی تعمیر کی، مرہٹوں نے اسے فتح کیا اور آخر میں انگریزوں نے اسے جیل میں تبدیل کر دیا۔ ہر مجسمے کے نیچے مختصر تاریخی معلومات بھی درج ہوں گی۔
میوزیم کی خاص بات یہ ہوگی کہ اس میں پرانا پھانسی گھر بھی عوام کے مشاہدے کے لیے کھولا جائے گا، جہاں رگھو جی بھانگرے اور اننت کانہیرے جیسے مجاہدین کو پھانسی دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ واسو دیو بلونت پھڈکے، ونایک دامودر ساورکر اور دیگر انقلابیوں کے مجسمے بھی نصب کیے جائیں گے۔
اس موقع پر سنجے کیلکر نے کہا کہ "تھانے تاریخی اہمیت کا حامل شہر ہے اور اس میوزیم کے ذریعے اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عام شہریوں کے لیے یہ میوزیم نہ صرف تاریخ کا مشاہدہ کرنے کا موقع فراہم کرے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک تحریک کا ذریعہ بھی بنے گا۔"
یہ منصوبہ سنجے کیلکر کے ایم ایل اے فنڈ اور ضلعی منصوبہ بندی کمیٹی کے فنڈ سے مکمل کیا جا رہا ہے۔