تبلیغی گروہی تصادم : ڈھاکہ میں مولانا سعد گروپ کے خلاف احتجاج: شرپسندوں کی فی الفور گرفتاری کا مطالبہ

ڈھاکہ- ۲/دسمبر: (ڈھاکہ سے اشرف عالم قاسمی ندوی کی گراونڈ رپورٹ/ بصیرت نیوز سروس ) گزشتہ کل تبلیغی جماعت کے دو دھڑوں میں ہوئے خونریز تصادم کے خلاف آج پورے بنگلہ دیش میں مولانا اشرف علی شیخ الحدیث ومہتمم جامعہ مالی باغ بنگلہ دیش کی قیادت میں زبردست احتجاج کیا گیا ، اس احتجاجی مظاہرے میں مشہور مقرر، جامعہ عربیہ رحمانیہ کے شیخ الحدیث وصدر تحریک مجلس الشباب بنغلہ دیش مولانا مامون الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حملہ کرنے والے شرپسندوں کے خلاف جلد ایکشن لیا جائے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے-

آج بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ شہر کے مختلف علاقوں میں طرح طرح کے نعروں سے مظاہرین نے شہر کی فضا کو گرم رکھا اور اپنا سخت احتجاج درج کرایا، امارت گروپ کی شرپسندی اور بہیمانہ ظلم کے خلاف پورا بنگلہ دیش سراپا احتجاج نظر آیا، طلبہ و عوام مشتعل ہیں اور انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے خون کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بدلہ لے، مظاہرین نے کل بھی پورے بنگلہ دیش میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے نظام زندگی کے مفلوج ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے.

کیا ہوا تھا یکم ڈسمبر کو بسوا ٹونگی اجتماع گاہ میں پڑھئے

احتجاج کی ابتداء بنگلہ دیش کی قومی مسجد بیت المکرم سے ہوئی- واضح رہے کہ گزشتہ کل ٹونگی میں امارتیوں کے حملے میں تقریبا ایک درجن جاں بحق اور سینکڑوں علماء و طلباء شدید زخمی ہوگئے تھے، آج جاں بحق ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے اور زخمیوں کا علاج جاری ہے کچھ زخمیوں کی حالت انتہائی نازک ہے علمائے بنگلہ دیش نے پوری دنیا کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کشیدگی کے خاتمے کیلیے دعا کریں اور تبلیغی جماعت میں اتحاد و امن کی کوششوں کیلیے پہل کریں.

علماء کرام نے حکومت کے سامنے جو چھ مطالبات رکھے ہیں وہ یہ ہیں

1 حملہ کے اصل مجرم واصف الاسلام، شہاب الدین اور نسیم سمیت تمام مجرموں کو 24 گھنٹے کے اندر اندر حراست میں لا کر سزا دی جائے ۔
2، تمام زخمیوں کا نقصان تلافی کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ علاج کا بندوبست کیا جائے ۔
3, ٹونگی اجتماع کا میدان اب تک جس طرح تھا اسی طرح شوریٰ والوں کو سپرد کیا جائے ۔
4, جلد از جلد کاکرائیل مرکز کو واصف اور نسیم جیسے مجرموں سے خالی کرایا جائے
5،پورے ملک میں علماء طلبہ اور اہل شوریٰ حضرات کے لیے پرامن ماحول بنایا جائے تاکہ ان پر مزید کوئی پریشانی نہ آنے پائے
6. ٹونگی میدان میں طے شدہ تاریخ میں ہی عالمی اجتماع اٹھارہ، انیس، بیس جنوری 2019 میں منعقد کرنے کے لیے تمام کارروائی مکمل کی جائے
پریس کانفرنس میں شارکین حضرات میں شیخ الحدیث نور حسین قاسمی علامہ اشرف علی مولانا زبیراحمد (ممبر عالمی شوریٰ) مولانا مامون الحق وغیرہ شریک رہے

بشکریہ بصیرت فیچرس

1 thought on “تبلیغی گروہی تصادم : ڈھاکہ میں مولانا سعد گروپ کے خلاف احتجاج: شرپسندوں کی فی الفور گرفتاری کا مطالبہ”

  1. ماشا ہ اللہ آپ نے میڈیا کی طرح ایک جانب کی طرف داری کری اور دونوں کی باتے سنے زحمت نہی کری چہوٹ پر مبنی ی خبر
    پہلی بات جہگڑا شروع کس نے کیا؟ طلبہ کو کسنے ورغلاکے بہیجا ک یہ لوگ گستاخ رسول ہے نعوذ باللہ ان کو لاٹہئوں سے مارو؟! اور پہر حملہ ہوا اور جوابی حملہ دفاع عن النفس ہوا مرنے والے کیا سارے ایک طرف ہے سراسر چہوٹ ہے
    دونوں طرف کے لوگوں کو نقصان پہنچا اور دونوں طرف سے لوگ مرے اور زخمی ہوئ

    جواب دیں

Leave a Reply to Abu yusufCancel reply

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading