تبلیغی جماعت کےخلاف نفرت کی مہم Godi Media Spreading Hate Against Tablighi Jamaat*

تبلیغی جماعت کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے، مجھے تبلیغی جماعت سے بعض امور میں اختلافات ہیں، لیکن وہ اختلافات باہمی ہیں، اس کو باہم حل کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے، لیکن آج اس جماعت کے بارے میں گودی میڈیا سے مخاطب ہوں جو ان کو دنیا کا سب سے بڑا خطرہ بتا رہے ہیں، اگر تبلیغی جماعت پر سیاسی اور سرکاری سطح کی پابندی کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے تو پھر مجھے کہنے دیجیے کہ ایسا مطالبہ کرنے والے نفرت کی دلدل میں دھنسے ہیں یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا، آپ کیا جانتے ہو تبلیغی جماعت کے بارےمیں؟*

*وہ صرف اور صرف انسانوں کو انسانوں سے محبت کرنے کی تعلیم دیتے ہیں، تبلیغی جماعت اکیلی ایسی جماعت ہے جس کی پوری تاریخ غیر سیاسی اور ہندو مسلم والی نفرتوں سے پاک ہے۔*

*آپ حکومت اور پولیس نہیں انٹلیجنس کی رپورٹ چیک کرلو اس جماعت کے بارےمیں انڈین میڈیا اسوقت اپنے اسلاموفوبیا کا ثبوت دے رہا ہے۔*

*کرونا بیماری ہے کسی کو بھی ہوسکتی ہے اس کا علاج کیجیے اگر تبلیغی جماعت کے کچھ لوگوں نے لاک ڈاؤن کےخلاف ورزی کی ہے تو ان کو یقینًا سزا دیجیے، لیکن ہندوتوا کے نفرتوں کے سوداگر مرکز نظام الدین پر پابندی کی مانگ کررہے ہیں، اور سرکاری طور پر تبلیغی جماعت کے خلاف قانونی پابندی کی بات کررہے ہيں یہ واضح کرتا ہے کہ کرونا جیسی بیماری کے پردے میں بھی نفرتوں کی کاشت کون کررہاہے۔*

*مجھے بتائیے کہ: تبلیغی جماعت ایک سینٹر ہے، وہاں ہمیشہ ہر ملک ہر صوبہ کے افراد ہوتے ہیں، آپ نے یکایک لاک ڈاؤن کردیا، ٹرینیں اچانک بند، پروازیں بھی معطل، تو ایسے میں وہ لوگ کیسے اور کہاں جاتے؟ آپ نے کوئی متبادل نظم بھی نہیں کیا۔*

*لیکن اس سوال کا جواب دینے کی بجائے آپ لوگ تبلیغی جماعت پر پابندی کی بات کررہے ہیں، یہ صرف نفرت ہے نفرت۔*

*کنکا کپور نے کرونا لاک ڈاؤن کےخلاف ورزی کی، اس کے ساتھ حکمران جماعت کے قد آور لیڈر شریک ہوئے، اگر ہم سیاست کرنا چاہتے تو اس کی آڑ میں پابندی کا مطالبہ کرسکتےتھے یوگی آدتیہ ناتھ نے لاک ڈاؤن کے خلاف کھلم کھلا ورزی کی اور رام مندر میں پروگرام کیا، اس کے جواب میں اگر ہم یہ کہتے کہ اسی وجہ سے اترپردیش میں کرونا وائرس پھیلا ہے اس لیے رام مندر پر پابندی لگائی جائے تو؟ لیکن ہم نے نہیں کہا، لیکن جو لوگ آج تبلیغی جماعت پر پابندی کا مطالبہ کررہے ہیں ان کو پہلے یہ مطالبہ کرناچاہئے، لیکن ہم اس بیماری کی آڑ میں سیاست کرتے ہوئے رام مندر پر پابندی کا مطالبہ نہیں کرینگے کیونکہ ہمارا مذہب بیماریوں کی آڑ میں نفرت اور دشمنی نکالنے کی تعلیم نہیں دیتا۔*

*لیکن آج میڈیا اور نفرت کے پجاری جس طرح دنیا کی سب سے غیر سیاسی سنستھا تبلیغی جماعت، جس جماعت نے کبھی کسی پارٹی، کسی حکومت اور کسی بھی طرح کے مذہبی تشدد کا مظاہرہ نہیں کیا اس جماعت پر پابندی لگانے کی جو مانگ کررہے ہیں اس سے بہت دُکھ ہوا، اور یہ یقین ہوگیا کہ انڈین گودی میڈیا کی نسوں میں خون نہیں غلیظ، انسانیت دشمن اسلامو فوبیا کی آگ دوڑتی ہے۔*

*میں اس موقع پر تبلیغی جماعت کے ساتھ ہوں، میری دعا ہےکہ جماعت کے سارے ساتھی محفوظ رہیں، اور مرکز نظام الدین سلامت رہے، جماعت کے ذمہ داران اور دعوت کے ساتھیوں سے بھی درخواست ہےکہ وہ بیماری کو پھیلنے سے روکیں، محکمہ صحت کی رہنمائی کو فالو کریں۔*

*سمیع اللّٰہ خان*
۳۰ مارچ بروز پیر ۲۰۲۰
ksamikhann@gmail.com

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading