تبلیغی جماعت تصادم : بنگلہ دیش میں دوسرے روز بھی احتجاج !

مجرموں کی گرفتاری کے مطالبے میں شدت، گرفتار نہ ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

ڈھاکہ۔ 03؍دسمبر 2018 (اشرف عالم قاسمی)

بنگلہ دیش میں تبلیغی جماعت کے دو دھڑوں میں ہوئے تصادم کے دوسرے دن بھی پورے ملک میں احتجاج جاری رہا۔ مظاہرین اپنے مطالبے پر اٹل ہیں کہ مجرمین کو جلد از جلد سزا دی جائے ورنہ احتجاج جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ ڈھاکہ کے ٹونگی عالمی اجتماع میں سنیچر کی صبح دس بجے تبلیغی جماعت کے دو دھڑوں میں تصادم ہوگیا تھا جس میں کئی لوگ مارے گئے اور تقریباً دو سوسے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے خلاف اتوار اور سوموار کو زبردست احتجاج کیا گیا۔ زخمیوں کا اعلی ترین علاج جاری ہے ۔ جن میں 200 زخمیوں کے حالات بہت ہی تشویشناک بتائے جارہے ہیں ۔ ان میں 5 آئی سی یو میں داخل ہیں اور آج بھی حسب اعلان سابقہ پورے ملک میں پر زور احتجاج جاری رہا۔ اور مجرموں کو قانون کے تحت لانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ ان ملزموں کو جب تک حراست میں نہیں لیا جاتا ہے تب تک مظاہرین نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری طرف بنگلہ دیش کے 15000 دینی عربی مدارس کی سب سے بڑی سرکاری تنظیم الھیئۃ العلیا للجامعات القومیۃ بنغلادیش کے صدر ام المدارس العربیہ بنغلادیش جامعہ ہاٹہزاری کے مہتمم و شیخ الحدیث شیخ الاسلام حسین احمد مدنی رح کے خلیفہ علامہ شاہ احمد شفیع نےبھی الھیئۃ العلیا للجامعات القومیۃ کی طرف سے ایک ضروری اعلان شائع کیا ہے ۔ انہوں نے اپنے اعلان میں مدارس اسلامیہ کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پورے ملک میں ہر شہر ہر ضلع اور ہر قصبہ میں موجود تمام مدارس دینیہ کے جملہ اراکین کو یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ علماء اور جماعت کے مقامی ذمہ داران حضرات سے مشورہ کر کے ٹونگی میدان میں ہوا افسوسناک حادثہ کے اصل مجرم واصف الاسلام نسیم مولوی مشرف مولوی اشرف علی اور عبد الرشید وغیرہ کے خلاف عدالت میں مقدمہ درج کیا جائے ۔ نیز حسب اعلان پر سکون ماحول میں احتجاج و مظاہرہ کرتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں دعاء کا عمل جاری رکھیں ۔ مشورہ کے تحت ہر علاقے میں ایک ماہر وکیل (ایڈووکیٹ) کے توسط سے قانونی لڑائی لڑی جائے‘۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading