بے آوازوں کی آواز (روش کمار) بقلم: ایم۔ایم۔سلیم

9975783737

صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اور ستون کا کام یہ ہوتا ہے کہ اس پر کھڑی ہوئی عمارت کو سہارا دینا اب اگر ستون ہی لڑکھڑا جائے تو عمارت بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی حال آج کل ہندوستان کی جمہوری عمارت کا ہوچکا ہے جو گرنے کے بالکل قریب ہے کیونکہ اس کا اہم ستون جسے جمہوریت کہا جاتا ہے وہ لڑکھڑا رہا ہے جس کے لڑکھڑانے سے اس جمہوری عمارت کی بنیادیں تو ہل ہی چکی ہے، اگر اسے بروقت سہارا نہ دیا گیا تو یہ ممبئی کی گرتی ہوئی کسی عمارت کی طرح بھی گر سکتی ہے۔ لیکن کہتے ہیں کہ تھوڑا سا سہارا بھی کسی بلند و بالا عمارت کو گرنے سے بچا سکتا ہے، ایک ایسے وقت میں جب ملک کی کچھ میڈیا جس میں پرنٹ اور الیکٹرونک دونوں شامل ہیں اس گرتی ہوئی عمارت کی کوئی پرواہ نہیں کر رہے ہیں تب روش کمار جیسا، بے باک، ایماندار، سچا صحافی اس گرتی ہوئی جمہوریت کو بچانے کے لیے جان کی پرواہ کیے بغیر آگے آتا ہے اور سہارا دے کر گرنے سے بچاتا ہے۔

حال ہی میں ہندی صحافت کا مشہور و معروف نام، انڈیا ٹی وی کے پرائم صحافی، صحافت کی دنیا میں اپنی الگ شناخت قائم کرنے والا، جسے دنیا روش کمار کے نام سے جانتی ہے انہیں 2019 کے "ریمن میگسیسے ایوارڈ” سے نوازا گیا۔ اس ایوارڈ کو ایشیا کا نوبل بھی کہا جاتا ہے۔ ایوارڈ فاؤنڈیشن نے ان کے پروگرام "پرائم ٹائم” کو عام لوگوں سےاور ان کی مشکلوں سے جڑا ہوا بتاتے ہوۓ کہا کہ اگر آپ بے آوازوں کی آواز بنتے ہیں تب آپ ایک صحافی ہیں۔ فاؤنڈیشن نے مزید آگے کہا کہ بڑے سے بڑے افسر کے سامنے حق بات کہنا اور موجودہ حالات اور میڈیا پر تنقید کرنے میں انہوں نے کبھی کوتاہی نہیں کی، یہی وجہ ہے کہ ان کو کئی بار کسی نہ کسی طرح کی اذیت اور دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ اس دور میں بھی روش کمار نے صحافت کو قائم رکھا ہے۔ روش کمار نے اپنے صحافتی زندگی کا آغاز 1996 سے انڈیا ٹی وی سے کیا تھا۔ ابتداء میں انہیں چٹھیاں چھانٹنے کا کام ملا تھا۔ جلد ہی اپنی قابلیت کی بنا پر وہ روپورٹنگ کا کام کرنے لگے۔ ان کا ایک پروگرام” روش کی رپورٹ” کافی مقبول ہوا۔ پھر اس کے بعد انہوں نے اینکرنگ کی اور” پرائم ٹائم” نامی پروگرام سے شہرت حاصل کرکے وہ آج اس مقام پر پہنچے ہیں۔

میں نے کبھی بھی روش کمار کے علاوہ کسی بھی صحافی کو بے روزگاروں، اور نوکریاں، اور حقیقی مدعوں پر بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ پچھلے سال یونیورسٹی ایپی سوڈ چلا کر انہوں نے ایسے حیرت انگیز اعداد و شمار پیش کئے جو شاید حکومت کو بھی پتہ نہ ہو۔اور اگر پتہ رہتا تب بھی حکومت کان نہیں دھرتی۔

عیاں رہے کہ یہ بین الاقوامی ایوارڈ فلپائن کے سابق صدر ریمن میگسیسے کے نام پر ہر سال مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی انجام دینے والے افراد اور اداروں کو تفویض کیا جاتا ہے۔

2014 کے بعد سے ہندوستانی صحافت نے جو کروٹ لی ہے، جو کردار ادا کرنا شروع کیا ہے اس نے پوری دنیا میں ملک اور یہاں کی صحافت کو شرمندہ کر دیا ہے۔ میڈیا کا کام ہوتا ہے کہ حکومت سے سوال پوچھے، عوام کے مسائل کو حکومت سے آگاہ کرائے، حکومت کو آئینہ دکھائے لیکن یہاں تو میڈیا حکومت کے ترجمان کے طور پر کام کر رہا ہے۔ حکومت کے گن گانا، ان کی ہاں میں ہاں ملانا، اصل اور ضروری مدعوں کو بھٹکانا یہ آج کی صحافت کا پسندیدہ شغل بن گیا ہے۔ جو صحافت کے پیشے کے لئے بہت ہی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور ہو رہا ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے لوک سبھا میں اعظم خان کے خاتون اسپیکر کے تبصرے کو لیکر جو چینلز گھنٹوں تبصرے کرتے نہیں تھک رہے تھے وہ اناؤ معاملے پر ایسے خاموش ہیں جیسے انہیں سانپ سونگھ گیا ہو۔ اپنے ٹی آر پی کے چکر میں آج میڈیا اندھا ہو چکا ہے جو کہ سچ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہا۔ جن کا کام سچ دکھانا ہے وہ لوگ سچائی کو چھپا رہے ہیں۔یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک گھنٹہ کا پروگرام چلاکر اس میں بلائے گئے مہمانوں کو آپس میں لڑاکر اور چیخنے چلانے سے کیا آپ کا کام مکمل ہوجائے گا؟ ایسا کرکے آپ محض وقت برباد کر رہے ہیں۔ آپ کو تو غیر جانبدار ہونا چاہئے۔ لیکن یہاں تو عالم یہ ہے کہ کوئی بھی معاملہ ہو جائے سب سے پہلے میڈیا ہی ہے جو وکیل، منصف، اور حکومت یہ تینوں کردار بہت بہتر طریقے سے انجام دے رہا ہے۔ تو کیا ایسے حالات میں صحافت پر کون یقین کرے؟

اس معاملے میں این۔ ڈی۔ ٹی۔وی۔ مینیجمینٹ بھی تعریف کے قابل ہے کہ انہوں نے حکومت کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ اور روش کمار کو کھلی چھوٹ دی کہ آپ عوام کے سامنے سچ کو پیش کرے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ورنہ ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ پنیہ پرسون واجپائی اور ابھیسار شرما کو مینیجمینٹ کی طرف سے سپورٹ نہ ملنے کی وجہ سے نیوز چینلز کو خیر باد کہنا پڑا۔

دوسرے صحافیوں سے ہم اتنا ہی کہیں گے کہ آپ حکومت کا آلہ کار نہ بنیں، شفاف اور غیر جانبدارانہ صحافت کو فروغ دیں، صحافت کے گرتے معیار کو بلند کریں۔ ہندو مسلم دکھانا بند کریں۔ ملک میں اور بھی کئی مسائل ہیں جو آپ اٹھا سکتے ہیں۔ اس لئے اب بھی وقت ہے سنجیدہ صحافت کو فروغ دینے کا کام کریں، غیر ضروری بحث و مباحثہ سے پرہیز کریں، تاکہ عوام کا اعتماد پھر سے بحال ہو سکے۔ ساتھ ہی روش کمار کو بھی مبارکباد، کہ وہ ایسے دور میں بھی اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں کہ جب حق بات کہنا اور حکومت سے سوال پوچھنا بھی جرم ہو گیا ہے۔ آپ سے درخواست کہ آپ ڈٹے رہیں، ملک میں کچھ لوگ اب بھی ایسے ہیں جن کو آپ ایک آنکھ نہیں بھاتے ہیں لیکن ساتھ ہی کچھ ایسے بھی ہیں جو آپ کو اور آپ کے کام کو یقیناً پسند کرتے ہیں، کیونکہ آپ حقیقی صحافی کا کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن اس میں خطرہ بہت ہے۔ آخر میں بس اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ۔۔۔۔

بہت بجھانے کی کوشش کی گئی

مگر یہ دیا جگمگاتا رہا

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading