بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا وقت کی ضرورت:شرد پوار

ممبئی ،24اپریل (ایجنسیز)ملک کے مو جو دہ حالات میں اگر بی جے پی اقتدار سے بے دخل نہیں کیا گیا تو ملک تبا ہی و بر با دی دہا نے پر کھڑا ہو جا ئے گا نیز وزیر اعظم نریندر مو دی ایک جانب کو دہشت گرد مخا لف رو یہ اپنا ئے ہو ئے ہیں اور دوسری جانب دہشت گر دی کی کلیدی ملز مہ سادھوی پرگنیا سنگھ ٹھاکر کو اپنی پارٹی کی نما ئندگی دئے ہو ئے ہیں ان خیا لات کا اظہار کل شب راشٹر وا دی کانگریس پارٹی کےقومی صدر شرد پوا ر نےممبئی کے مضافا ت میں منعقدہ ایک سیا سی جلسہ خطاب کر تے ہوئے کیا ۔

شرد پوا ر نےاس مو قع پر کہا کہ شب برات کے مو قع پر جب ما لیگا ؤ میں بم دھما کے ہو ئے تھے اس وقت ان کی ذا تی رائے یہ تھی کہ ان دھما کوں کے پس پشت کو ئی مسلما ن نہیں ہو گا اور اس وقت کے اعلیٰ پو لس افران نے آنجہا نی وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے اس معا ملہ میں گہرا ئی تک جا کر تفتیش کی اجا زت طلب کی تھی جس کے بعد ہی دہشت گر دی کے چہرے پر پڑا زاعفرا نی پر دہ بے نقاب ہو ا تھا ۔

انہو ں نے کہا کہ دہشت گردہ کا کو ئی مذہب نہیں ہو تا ہےلیکن اس کے با وجود بھی بی جے پی کے قیا دت والی مر کزی حکومت دہشت گردی کی آڑ میں ایک مخصوص طبقہ کو نشا نا بنا ئی ہو ئی ہے ۔
شرد پوار نے کہا کہ وزیر ااعظم نریندر مو دی نے جب ملک کے وزیر اعظم کا حلف لیا تھا اس وقت تمام مذا ہب کو ساتھ لے چلنے کا عہد لیا تھا لیکن ان کی پانچ سالہ کا کر دگی اس کے بر خلاف رہی ہے
رکن پارلیمینٹ مجید میمن نے اپنے خیا لات کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ ملک کے مو جو دہ حالات میں جمہو ریت خطرے میں ہے اور ایک راستہ جہاںحکم شا ہی اور ہٹلر شاہی کی جانب جا رہا ہے وہی دوسرا راستہ آئین و جمہو ریت کی سمت میں جارہا ہیں ۔ اور حالت حاضرہ کا تقا ضہ ہے کہ ہر ہندستانی شہری دوسرا راستہ اختیا ر کریں ورنہ ملک سے جمہوریت ہی ختم ہو جا ئے گی ۔

مجید میمن نے سپریم کو رٹ کے چار ججو ں کی جانب سے ملک کی تاریخ میں پہلی مر تبہ میڈیاسے خطاب کر نے والے واقعہ کا ذکر کر تے ہو ئے کہا کہ ملک کی سب سےبڑی عدالت کے منصفو ں کو آئین کی حفاظت کیلئے آواز اٹھا نا پڑا ۔

انہو ں نے گذشتہ انتخابات میں بی جے پی جا نب سے پندرہ لاکھ روپیہ ہر ہندوستانی شہری کے اکا ؤنٹ میں جمع کیے جا نے کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ شہریوں کو یہ رقم تو نہیں ملی لیکن عجیب بات یہ ہےکہ مو دی سر کا ر نے عوام کو یہ تک نہیں بتلا یا کہ پندرہ لا کھ روپیہ جمع کر نے میں حکومت کو کیا اڑچنے آئی اور کیا دکتیں آئی اس صاف ظاہر ہو تا ہے کہ مو دی سر کا ر کا یہ وعدہ صرف ایک ڈھکو سلہ تھا ۔

جھا رکھنڈ میں ہو ئے علیم الدین انصا ری کے ہجو می تشدد والے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے مجید میمن نے کہا کہ اس معا ملے میں جب رانچی کی عدالت نے آٹھ بھگوا ملزمین کو ضمانت پر رہا کیاتھا ۔تب آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے رضا کا روں نے ان ملزمین کے اعزاز میں ایک تقریب کا انعقا د کیا مر کزی وزیر کی رہائش گاہ پر کیا تھا ۔ جو ایک شر م ناک و قابل مزمت بات ہے ۔

انہو ں نے مسلما نوں سے خصو صی طور پر اپیل کی کہ ا ن کی صفو ں میں انتشار کے سبب فر قہ پرست طا قتوں کو حو صلہ ملے گا لہٰذا مسلمانوں کو خصو صی طور پر اپنے جمہو ری حقوق کی ادائیگی کیلئے کمر بستہ ہو کر فرقہ پر ست طاقتوں کیلئے صف بندی کر نی چاہیے ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading