ناندیڑ: 29 نومبر( ورق تازہ نیوز)یو پی کے شہر سنبھل میں گزشتہ روز ایک مسجد کے سروے کے بہانے کئی مسلمانوں کو پولیس فائرنگ میں شہیدکردیا گیا تھا اسی طرح سارے دنیا میں مشہور اجمیر کی حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمت اللہ علیہ کی درگاہ کو وشنو مندر ہونے کی درخواست اجمیر کی عدالت میں داخل کی گئی ۔جسے سماعت کےلئے منظور کرلیاگیااور 20 ڈسمبرکو اسکی سماعت عمل میں آئے۔
اسی ضمن میں اجمیر کی عدالت میں ہندو تنظیموں نے ایک پیشنٹ دائر کی اور مطالبہ کیا کہ اجمیر شریف درگاہ کا سروے کیا جائے کیونکہ یہاں پر شیو بھگوان براجمان ہیں ان تمام حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے مجلس اتحاد المسلمین ریاست مہاراشٹر کے نائب صدر جناب سید معین کی قیادت میں اج ضلع کلکٹر ناندیڑافس کے روبرو سڑک پر زبردست احتجاجی دھرنا دیا۔
سید معین نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت سارے ملک کے حالات کو خراب کر رہی ہے اور اسی لیے اس کے چند کارکنان مختلف درگاہوں اور مساجد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔آج بروز جمعہ کو تقریبا ڈھائی بجے ضلع کلکٹر دفترکے باہر سڑک پر مجلس کی جانب سے پراحتجاجی دھرنا دیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔سیدمعین نے اپنی ولولہ انگیز تقریر میں کہا کہ بی جے پی حکومت ہر طریقے سے مسلمانوں پر ظلم و ستم اٹھا رہی ہے اور جس کے لیے وہ سرکاری انتظامیہ کا غلط استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سنبھل میں جو فائرنگ کے واقعے میں چار سے پانچ مسلم نوجوان شہید ہوئے ہیں ان کی شناخت ہونے کے بعد پولیس اب یہ بتا رہی ہے کہ ان نوجوانوں نے شاید کچھ مہلک ہتھیاروں کو استعمال کیا جس کی وجہ سے یہ واقعہ طول پکڑ گیا۔مجلس کے ریاستی نائب صدر جناب سید معین نے اب مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کسی خوف کا شکار نہ ہو بلکہ فرقہ پرستوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں ۔جلسہ کے اختتام پرضلع کلکٹر کے معرفت حکومت کو ایک میمورنڈم بھی روانہ کیا گیا جس میں معصوم مسلم بچے جو سنبھل میں پولیس فائرنگ میں شہید ہوئے ہیں
ان کے افراد خاندان کو 50 لاکھ کے قریب مالی امداد دی جائے اور ان کی تعلیم کا مکمل خرچہ بھی حکومت اٹھائے۔اس دھرنے میں مجلس کے شہر صدرمرزا امجد بیگ‘ الطاف سر ‘اسمعیل سر ‘کے علاوہ کثیرتعدادمیں عہدیداران موجود تھے۔