مغربی دہلی کے ایم پی پرویش ورما کے متنازعہ بیان نے ان کی ہی پارٹی بی جے پی کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی قیادت کو پرویش ورما کا بیان پسند نہیں آیا ہے اور ہائی کمان نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔
تاہم ابھی تک ایم پی کی جانب سے کسی وضاحت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ لیکن، ورما کے بیان کی سوشل میڈیا پر مذمت کی جا رہی ہے۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ حال ہی میں وشو ہندو پریشد کی طرف سے دہلی میں ایک پروگرام منعقد کیا گیا تھا،اس میں ایم پی پرویش ورما نے تقریر کرتے ہوئے منیش قتل کیس کا معاملہ اٹھایا اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے اپیل کی تھی کہ وہ مسلمانوں کی دکانوں، گلی کوچوں سے سامان نہ لیں اور مکمل بائیکاٹ کریں۔ تاہم ورما نے اپنی تقریر میں کسی برادری یا مذہب کا نام نہیں لیا۔ لیکن ورما کے اس بیان کے بعد مسلم سماج کی جانب سے بڑے پیمانے پر ناراضگی دیکھنے میں آئی۔
ورما کی تقریر وائرل ہونے پر سیاسی مخالفین اور ناقدین کی جانب سے انھیں سوشل میڈیا کو نشانہ بنایا گیا۔ اگر ذرائع پر یقین کیا جائے تو پرویش ورما کے ریمارکس خود ان کی اپنی پارٹی قیادت کو اچھے نہیں لگے۔
اگرچہ ایم پی کی طرف سے کسی سرکاری وضاحت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے، پارٹی ذرائع نے آج تک کو بتایا کہ ورما کے بیان سے مشکلات واضح طور پر نظر آتی ہیں۔