بی جے پی اور بہوجن ونچت اگھاڑی کے ٹکٹوں کی قدر میں اضافہ ‘ کانگریس کی قدر میں گراوٹ

allianceناندیڑ:23جولائی۔(ورق تازہ نیوز) ریاستی اسمبلی چناو میں ناندیڑضلع کے اسمبلی حلقوں سے الیکشن لڑنے والے بہوجن ونچت اگھاڑی کے آرزو مند امیدواروں کے انٹرویو 24جولائی کی صبح دس بجے وی آئی پی ریسٹ ہاو¿وس میں شرو ع ہورہے ہیں ۔ بہوجن ونچت اگھاڑی پارلیمنٹری بورڈ کے ممبران اشوک بھاو سونونے ‘ انابھاو پاٹل ‘پروفیسرریکھا تائی ٹھاکور اور ہری بھاو چوہان آزرو مند امیدواروںں کی موصولہ درخواستوں کے مطابق امیدواروں سے غیر رسمی ملاقات کریں گے۔ یہ انٹرویو صبح دس بجے تاشام پانچ بجے تک جاری رہیںگے۔ اپنی رپورٹ پارٹی ہائی کمان کو پیش کریں گے۔ ناندیڑ کے تمام اسمبلی حلقوں سے بہوجن ونچت اگھاڑی کاٹکٹ مانگنے والوں کی بڑ ی تعداد ہے ۔ ان آرزو مند امیدواروں میں مسلم اور دلت کی سب سے زیادہ تعداد ہے ۔ مہاراشٹراسمبلی چناو اکتوبر 2019 میں ہورہے ہیں۔ اسلئے ہر پارٹی نے اپنے امیدواروں کے ناموں پر غور وخوص شروع کردیا ہے ۔کانگریس پارٹی نے اپنے امیدواروں سے درخواستیںطلب کرلی ہیں اور آئندہ ہفتہ ضلع سطح پر ان خواہشمند امیدواروں کے انٹرویو لئے جارہے ہیں ۔ بہوجن ونچت اگھاڑی نے ودربھ میں خواہشمند امیدواروں سے ملاقات کی ہے ۔ اب اس کے قائدین مراٹھواڑہ کے دورے پرہیں ۔مراٹھواڑہ کادورہ 21 جولائی سے شروع ہوا ہے اس تاریخ کوعثمان آباد ضلع کے آرزو مند امیدواروں سے ملاقات کی گئی ۔ 22 جولائی کو بیڑ اور 23جولائی کولاتور کے امیدواروں کی درخواستوں کو جمع کرکے امیدواروں سے ملاقاتیں کی گئی ہیں ۔ مراٹھواڑہ میںونچت اگھاڑی قائدین 26جولائی کواورنگ آباد پہونچ رہے ہیں ۔ جہاں وہ ضلع کی تمام اسمبلی سیٹوں کےلئے آرزو مند امیدواروں سے ملاقات کریںگے ۔ ایسی اطلاع ہے کہ ہرضلع میں بڑی تعداد میں الیکشن لڑنے کے آرزو مند امیدوار ٹکٹ مانگ رہے ہیں ۔ ادھر ناندیڑ ضلع میں بھی یہی صورتحال ہے ۔ناندیڑ شہر کے شمال وجنوب حلقوں سے دلت اور مسلم افراد کی بڑی تعداد نے ٹکٹ مانگا ہے ۔ جن میں عبدالوحید کنٹرےکٹرنے(حلقہ شمال سے) اور سابقہ کارپوریٹر شیخ حبیب باوزیرنے (حلقہ شمال وجنوب ) سے ٹکٹ مانگا ہے ۔ ایسی اطلاع ہے کہ درخواست فارم کے ساتھ 25ہزار روپے نقد جمع کروانا لازمی ہے ۔ لوک سبھا الیکشن کے بعد مہاراشٹر میں بی جے پی اورونچت اگھاڑی کے ٹکٹوں کی قدر میں کافی اضافہ ہوا ہے جبکہ کانگریس اور راشٹرواد ی کانگریس پارٹی کے ٹکٹوں کی قدر میں گراوٹ آئی ہے ۔ اس طرح کی بحث سیاسی حلقوں میں جاری ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading