جب سے برطانوی "رومیو” نے اپنی بیوی کو یوکرین کی پناہ گزین "جولیٹ” کے لیے چھوڑا ہے، لعنتوں نے اسےخوب ستایا ہے، جس میں سے تازہ ترین اعلان انٹی گارنیٹ نے کیا ہے کہ وہ اور اس کی گرل فرینڈ صوفیہ کارکاڈیم اپنی ملازمت کھونے کے بعد "جان بچانے کی کوشش” کر رہے ہیں۔
اخبار "ڈیلی سٹار” نے خبر دی ہے کہ اپنی بیوی کو یوکرینی پناہ گزین لڑکی کی خاطراور اس کی محبت میں چھوڑنے والا برطانوی اپنے نئے تعلقات میں میڈیا کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وجہ سے غریب اور بے بس ہو گیا ہے۔
گارنیٹ نے کہا کہ "میں لوگوں کو دکھانا چاہتا ہوں کہ میں فلاحی بھتہ خور نہیں ہوں اور جانتا ہوں کہ کیا صحیح ہے۔ میں نے ایک بہت کامیاب کاروبار کیا ہے جس کے لیے میں نے خود کو وقف کیا ہے، یہاں تک کہ کچھ ہفتوں میں میں نے 80 گھنٹے سے زیادہ کام کیا”۔اس کا کہنا ہے کہ اب وہ اور اس کی یوکرینی بیوی صوفیہ کارکاڈیم "بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
یوکرینی لڑکی کے عشق میں مبتلا ہونے والے برطانوی کا کہنا ہے کہ وہ ایک سکیورٹی کمپنی چلا رہے تھے جس کا برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس کے ساتھ معاہدہ تھا، لیکن بعد میں وہ اپنے کام کی جگہ پر صحافیوں کی موجودگی کی وجہ سے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس کی وجہ سے حکام کو تکلیف ہوئی۔
اس نے کہا کہ بعض اوقات وہ اپنے ملازمین کو شراب خانوں اور کلبوں میں بھیجتا ہے، لیکن وہاں میڈیا کے نمائندے اس کا فون نمبر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ عملی طور پر بے کار ہوچکے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ میرے خاندان کے لوگ تھوڑی بہت میری مدد کرتے ہیں۔
بدنام عاشق‘ نے کہا کہ "وہ کرائے کا اپارٹمنٹ بھی نہیں دے سکتا جس میں اب وہ کرکاڈیم کے ساتھ رہتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ اس وقت کارکاڈیم ان کی "ترجیح” ہے۔
برطانوی اخبارات نے رپورٹ کیا کہ لووف سے تعلق رکھنے والے کارکاڈیم نے برطانیہ میں قیام کے صرف دس دنوں کے اندر گارنیٹ خاندان کو تباہ کر دیا۔
برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ کے مطابق 22 سالہ یوکرینی مہاجر صوفیہ کارکاڈیم ’جزوی نابینا پن‘ کا شکار ہو گئی ہیں۔