بھیونڈی (شارف انصاری ):- کئی مجموعہ کلام ‘سو سے زائد ادبی دینی کتابوں کے مصنف استاد شاعر اورنام کی مناسبت سے اسم بامسمیٰ محسن امیدی برہانپوری کا آج ۲۰؍ نومبر بعدنماز مغرب انتقال ہوگیا۔إنا لله وإنا إليه راجعون ۔مرحوم کافی ملنسار اور خوش مزاج تھے ۔عمر کے آخری پڑاؤ میں انھوں نے قرآن پاک کا ترجمعہ مکمل کر لیا تھا اور اس کے چند نسخے کتابی شکل میں زیراکس پرنٹ کروا چکے تھے۔وہ اسے اپنی زندگی کا سرمایہ کہتے تھے۔ انھوں متعدد مدارس اسلامیہ سے اس ترجمے کی سند بھی حاصل ہو چکی تھی۔
یکم مارچ ۱۹۳۴ء مطابق ۱۳۵۳ھ بروز جمعرات صبح ۵؍ بجے دارالسرور برہانپور کے ایک محلہ جس کا نام ’’نیا محلہ تھا جناب محسن امیدی پیدا ہوئے۔ چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کی اور پھر بیڑ ی بنانے کے کاروبار سے جڑ گئے۔ان کا ہمارا آبائی وطن ’’خورجہ‘‘ ہے جو ضلع بلند شہر میں واقع ہے۔ان کے دادا جن کا نام ’’شیخ کالو‘‘تھا وہ شہنشاہ ’’بہادر شاہ ظفرؔ‘‘کے یہاں بطور سپاہی ملازم تھے اور و ہ ’’بھالدار‘‘ کہلاتے تھے ۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں کے قہر وغضب سے بچتے بچاتے جو قافلے برہانپور آئے ان میں محسن امیدی برہانپوری کے عزیز واقارب بھی شامل تھے اور انھوں نے دارلسرور برہانپور کو اپنا وطن بنا لیا۔محسن امیدی برہانپوری کثیر العیال تھے ان کےپانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں ۔ بھیونڈی میں وہ عرصہ دراز سےمقیم تھے اور گزشتہ چند دنوں قبل تک ان کے زیر انتظام جاری شاندار گیسٹ ہاوس(کلیان روڈ بھیونڈی ) کےدروازے ہر کس وناکس کے لئے ہمیشہ کھلے رہے۔ان کے اچانک رحلت پر بھیونڈی ‘ممبئی ‘مالیگاؤ ں اور برہانپور کے علمی و ادبی حلقوں میںغم کا ماحول ہے۔
یکم مارچ ۱۹۳۴ء مطابق ۱۳۵۳ھ بروز جمعرات صبح ۵؍ بجے دارالسرور برہانپور کے ایک محلہ جس کا نام ’’نیا محلہ تھا جناب محسن امیدی پیدا ہوئے۔ چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کی اور پھر بیڑ ی بنانے کے کاروبار سے جڑ گئے۔ان کا ہمارا آبائی وطن ’’خورجہ‘‘ ہے جو ضلع بلند شہر میں واقع ہے۔ان کے دادا جن کا نام ’’شیخ کالو‘‘تھا وہ شہنشاہ ’’بہادر شاہ ظفرؔ‘‘کے یہاں بطور سپاہی ملازم تھے اور و ہ ’’بھالدار‘‘ کہلاتے تھے ۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں کے قہر وغضب سے بچتے بچاتے جو قافلے برہانپور آئے ان میں محسن امیدی برہانپوری کے عزیز واقارب بھی شامل تھے اور انھوں نے دارلسرور برہانپور کو اپنا وطن بنا لیا۔محسن امیدی برہانپوری کثیر العیال تھے ان کےپانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں ۔ بھیونڈی میں وہ عرصہ دراز سےمقیم تھے اور گزشتہ چند دنوں قبل تک ان کے زیر انتظام جاری شاندار گیسٹ ہاوس(کلیان روڈ بھیونڈی ) کےدروازے ہر کس وناکس کے لئے ہمیشہ کھلے رہے۔ان کے اچانک رحلت پر بھیونڈی ‘ممبئی ‘مالیگاؤ ں اور برہانپور کے علمی و ادبی حلقوں میںغم کا ماحول ہے۔