دوسری سماجی تنظیموں کے کمیونٹی کچن کو اپنا بتانے اور بدعنوانی کو لے کر دھرم راج گروپ کورٹ سے ہوگی رجوع
بھیوندی ( شارف انصاری ):- ملک میں کورونا وائرس سے بچاو کے لئے جاری لاک ڈاون کے دوران دوسرے مرحلے میں مزدور بے سہارا اور غریب ضروتمندوں کے لئے بھیونڈی کارپوریشن کی جانب سے کمیونٹی کچن شروع کر لوگوں کو دو وقت کا کھانا دینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس دوران صرف کارپوریشن نے دوسری تنظیموں اور اداروں کے کچن پر اپنا بینر پوسٹر لگا کر اسے اپنانے کی کوشش کرتے ہوئے بھاری بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے کارپوریٹر اور دھرم راج گروپ این جی او کے سربراہ نلیش چودھری نے کارپوریشن کی بدعنوانی کے خلاف کورٹ سے رجوع ہونے کا اعلان کیا ہے ۔ وہی منعقدہ پریس کانفرنس میں کارپوریٹر اور دھرم راج گروپ این جی او کے سربراہ نلیش چودھری نے مزید کہا کےکورونا کی عالمی وباء کو روکنے کے لئے حکومت کی جانب سے کئے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھیونڈی کارپوریشن کی حدود میں لاکھوں تارکین وطن لوم مزدور اور ان کے اہل خانہ کو بھکمری سے بچانے کی پوری ذمہ داری کارپوریشن انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن کارپوریشن انتظامیہ نے اب تک ان غریب مزدوروں کو کھانا فراہم کرنے کے لئے کوئی بھی خاص اقدامات نہیں کئے ہیں۔ شہر میں تقریباََ تمام علاقوں میں سماجی تنظیموں نے اپنی جانب سے ان مزدورں پر چھائے ہوئے بھکمری کے بحران کے خاتمے کے لئے کمیونٹی کچن شروع کرکے اپنی بساط کے مطابق انہیں لاک ڈاؤن کی شروعات سے ہی کھانا فراہم کر رہے ہیں۔ اب سماجی تنظیموں کے ان قائم کردہ کچن کو اپنا کچن بتاکر ہمارے کاموں کا سہرہ بھیونڈی کارپوریشن انتظامیہ لے رہا ہے جو ایک قسم کی بدعنوانی ہے ۔
واضح ہو کہ لاک ڈاؤن کے پہلے دن سے ہی کارپوریٹر نلیش چودھری کی سربراہی میں دھرم راج گروپ کے ذریعہ انہوں نے بھیونڈی شہر اور تعلقہ میں تارکین وطن مزدوروں کے لئے دوپہر کا کھانا مہیا کرنا شروع کیا۔ 3 ہزار افراد کے کھانے پینے کے انتظامات کے آغاز سے انہوں نے اب روزانہ ۵۱ ہزار افراد کو کھانا فراہم کررہے ہیں۔ اسی طرح بھیوندی شہر کی تقریباََ 144 این جی اوزاور سماجی تنظیموں نے اپنی بساط کے مطابق اپنی جانب سے غریب مزدوروں اور مستحقین کو کھانا فراہم کر رہی ہیں۔
ریاستی حکومت کی جانب سے شہری انتظامیہ کمینٹی کچن کا قیام کرکے ان کی حدود میں تارکین وطن مزدوروں کو بھکمری کے بحران سے بچانے کے لئے اپنی جانب سے کھانا فراہم کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے تاہم بھیونڈی کارپوریشن انتظامیہ ہمارے کمیونٹی کچن سے مستفیض ہونے مزدوروں کی فہرست کو لے کر ان مزدوروں کو کھانا اپنی جانب سے فراہم کر نے کا جھوٹا دعوی کرنے کا الزام نلیش چودھری نے بھیوندی کارپوریشن انتظامیہ پر عائد کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ کارپوریشن انتظامیہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ شہر کے غریب لوم مزدوروں کو بھکمری سے بچانے کے لئے انہیں اپنی جانب سے مفت کھانا فراہم کرے۔ لیکن کارپوریشن کی جانب سے اس جانب مکمل چشم پوشی اور عدم توجہی کو دیکھتے ہوئے شہر کے تمام علاقوں کے سماجی کارکنان اور سماجی تنظیموں نے اپنے طور پر کھانا تیار کرکے مزدوروں کو تقسیم کرنا شروع کیا تاکہ مزدور بھوکے نہ رہیں۔ ان تمام تنظیموں کو اب تک حکومت یا کارپوریشن کی جانب سے اناج کی شکل میں کوئی تعاون نہیں مل رہا ہے۔ اور وہ اپنی جانب سے ہی کھانا تیار کرکے مزدوروں کو کھانا فراہم کر رہی ہیں۔ گذشتہ کچھ دنوں سے کارپوریشن انتظامیہ نے تمام این جی اوز سے مزدوروں کی فہرست کو طلب کیا اور ان تمام مقامات پر اپنے اساتذہ اور ملازمین کی ڈیوٹی لگادی ہے۔ ساتھ ہی ان تمام کمیونٹی کچن سے مستفیض ہونے والے افراد کی فہرست روزانہ تیار کرکے اسے حکومت کو غلط معلومات دینے کے لئے استعمال کئے جانے کا الزام نلیش چودھری نے کارپوریشن انتظامیہ پر عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اہل خیر افراد کی مدد سے دھرم راج گروپ کی جانب سے شروع کیاگیا کچن تین مئی تک جاری رہے گا اور حکومت یا میونسپل انتظامیہ کوان کے کچن پر دعوی کرنے نہیں دیا جائے گا۔ اور انہوں نے کارپوریشن کی بدعنوانی کے خلاف عدالت میں جانے کا انتباہ دیا ہے۔