گھر خریدنے کے لئے 10 لاکھ مائیکے سے نہ لانے پر بیوی کو پہلے گھر سے نکالا پھر دیا طلاق
بھیونڈی ( شارف انصاری ):- تین طلاق کا بہانا لے کر جہاں زعفرانی حکومت شریعت میں مداخلت کرنے پر آمادہ ہے وہیں چند کالی بھیڑیں مسلم سماج کو بدنام کرنے کا موقع بھی نہیں چھوڑتی ۔ مسلم اکثریتی شہر بھیونڈی میں ایک انجینئر نوجوان نے اپنی بیوی کو موبائل واٹس ایپ کے ذریعہ میسج بھیج کر تین طلاق دے ديا ۔وه بھی اس لئے کیونکہ خاتون نے مائیکے سے گھر خریدنے کے لئے 10 لاکھ نہیں لاپائی ۔ اپنےاوپر ہوئے اس ظلم کی شکایت خاتون نے پولیس محکمے اور مہیلا منڈل میں کرتے ہوئے شوہر سمیت تین لوگوں پر مقدمہ درج کر انصاف کی فریاد لگائی ہے ۔
بھیونڈی کے ديوان شاه درگاہ کی رہنے والی آرزو شیخ (23) نامی معذور خاتون کا نکاح اسلامی رسم و رواج سے 18 مئی 2014 کو ندیم شیخ کے ساتھ ہوا تھا ۔ نكاح کے دوران آرزو کے اہل خانہ نے بطور جہیز 10،051 روپئے کے ساتھ گھریلوں استعمال میں آنے والے ہر سامان و قیمتی زیورات تک دیئے تھے ۔ نديم شیخ ٹیکنیکل انجینئر ہے اور کلیان کے کسی نجی کمپنی میں ملازمت کرتا ہے ۔ باوجود شادی کے کچھ دن کے بعد سے ہی ندیم کے خاندان والوں نے نہ صرف جہیز کے لئے جسمانی اور ذہنی طور پر ہراساں کرنے لگے بلکہ اس کا شوہر اس کے کردار پر بھی شک کرنے لگاپھر بھی سسرال والوں کے تشدد کو آرزو مسکراتے ہوئے پانچ سال جھیلتی رہی ۔
اسی دوران ان کا ایک چار سال کا خوبصورت بیٹا بھی ہے باوجود اس کے گزشتہ چند ماہ میں ندیم فلیٹ خریدنے کے لئے آرزو پر مائیکے سے 10 لاکھ روپیہ لانے کا دباؤ بنانے لگامانگ پوری نہ کرنے پر وہ آرزو کی نہ صرف پٹائی کرتا تھا بلکہ ایک دن وہ دھکا مار کر اسے گھر سے نکال ديا ۔اسكے کچھ دن بعد اس نے واٹس ایپ پر ٹرپل طلاق کا میسج بھیج کر اسے طلاق تک دے ديا ۔ جسكے بعد آرزو نے پولیس محکمے کو میمورنڈم دے کر شوہر، ساس، سسر پر معاملہ درج کر انصاف کی فریاد لگائی ہے ۔ اس معاملے میں خاتون کے شوہر ندیم سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ لیکن بھوئی واڑا پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر کلیان كرپے نے جلد ہی اس معاملے میں مقدمہ درج کرنے کی بات کہی ہے ۔