خام مال کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مالکان نے لیا فیصلہ
بھیونڈی (شارف انصاری):- بھیونڈی میں لوم کارخانوں کے بعد اب تین دن مالکان نے سائیزنگ کارخانہ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مذکورہ فیصلہ متفقہ طور پر ہوئی ایک میٹنگ کے بعد سائیزنگ میں لگنے والے خام مال کی قیمتوں میں ہوئے بے تحاشہ اضافے کی مخالفت میں لیا گیا ہے ۔واضح ہو کہ گزشتہ کچھ دنوں سے بھیونڈی کی پارچہ بافی صنعت شدید مندی کی مار سے پعری طرح بے حال ہے ۔اس پر حکومت کی طرف سے گزشتہ دنوں بجلی کے بل بڑھانے کی مخالفت میں یہاں کے لوم مالکان نے کئی دنوں تک اپنا پاور لوم کارخانہ بند رکھا تھا ۔ قب مندی اور مہنگائی کی وجہ سے یہاں کے سائیزنگ مالکان نے تین دن اپنے کارخانوں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شہر کے آنند دیگھے چوک پر 29 دسمبر کو دوپہر میں بھیونڈی سائیزنگ ویلفیئر ایسوسی ایشن کی ایک جنرل باڈی کی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا تھاجہاں پر سائیزنگ میں ہو رہے نقصان کو لے کر بحث و مباحثہ كياگیا ۔ جسكے بعد میں سبھی سائیزنگ مالکان نے متفقہ طور پر 31 دسمبر سے لے کر 2 جنوری 2019 تک تین دن کے لئے اپنے کارخانوں کو بند رکھنے کا فیصلہ ليا کیونکہ سائیزنگ میں بھیم تیار کرنے کے لئے لگنے والا خام مال کافی مہنگا ہو گیا ہے ۔جس کی وجہ سے انہیں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اتنا ہی نہیں اس میٹنگ میں مہاراشٹر آلودگی کنٹرول بورڈ کلیان کے ضلعی افسر ڈی بی پاٹل اپنے کے ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے ۔ انھوں نے سائیزنگ مالکان کی رہنمائی کرتے ہوئے بورڈ کی طرف سے جاری کئے جانے والے کنسٹنٹ سرٹیفکیٹ لینے کے لئے سبھی سے اپیل کی ۔ اس اجلاس کی صدارت ہرکچند ڈوڈیا نے کی ۔ اجلاس کی نظامت ایسوسی ایشن کے سکریٹری اجئے کمار یادو ( لالا ) نے کی ۔ اس موقع پر آنند گپتا، شکیل مرچنٹ، ہنشمکھ بھائی پٹیل، عیسی سیٹھ، منسكھ پٹیل، معظم مومن، پریمنارائن رائے سمیت بڑی تعداد سائیزنگ کارخانہ مالک موجود تھے ۔ بتا دیں کہ بھیونڈی میں 100 سے زائد سائیزنگ کارخانے چل رہے ہےجہاں سے دھاگوں کی بھیم بنا کر پاور لوم کارخانوں میں کپڑا تیار کرنے کے لئے بھیجا جاتا ہے ۔