بھیونڈی: سماجوادی و بی جے پی خیمے میں جشن کا ماحول، کانگریس میں چھایا ماتم بھیونڈی شہر میں ایم آئی ایم کی شاخت ہوئی مضبوط

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- ۔بھیونڈی شہر کی دونوں اسمبلی نشستوں پر نتائج آنے کے بعد سماجوادی و بی جے پی خیمے میں جشن کا ماحول ہے ۔ انتخاب کے پہلے بھیونڈی شہر کی دونوں سیٹ پر الیکشن جیتنے کا دعوی کرنے والی کانگریس پارٹی کی شرمناک شکست کے بعد کانگریس کے خیمے میں صف ماتم چھا گیا ہے ۔ وہیں شہر کے سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ بھیونڈی شہر کے عوام ہمیشہ سے ہی ہندو مسلم اتحاد کا مظاہرہ کرتی آئی ہیں ۔ بھیونڈی میں پچھلی بار شہر کی دونوں نشستوں سے ہندو امیدوار نے کامیابی حاصل کی تھی ۔ اس میں اس بار بہتری کرتے ہوئے بھیونڈی کی عوام نے مشرق سے سماجوادی پارٹی کے امیدوار رئیس شیخ کو فاتح بنایا وہی مغرب کی نششت سے بی جے پی کے مہیش چوگھلے کو دوبارہ منتخب کر ہندو مسلم اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے ۔ اس اسمبلی انتخابات میں ایم آئی ایم نے دھوم مچا کر زوردار انٹری کر اپنی شناخت مضبوط کر لی ہے جبکہ مغرب میں عوام نے کانگریس کو ایم آئی ایم کی شکست کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا جاری ہے ۔ ویسے دیکھا جائے تو بھیونڈی شہر کی مشرق اور مغرب کی دونوں سیٹوں پر کافی دلچسپ مقابلہ رہا ۔ پرچہ نامزدگی داخلے سے لے کر لیکر ووٹنگ کے دن تک ہر روز نئی نئی تبدیلی کے ساتھ فضہ بدلتی رہی ساتھ ہی شہر میں نئی نئی افواہوں کا دور بھی چلتا رہا ۔

واضح ہوکہ ڈھائی سال قبل بھیونڈی کارپوریشن کے بلدیاتی انتخاب میں بھیونڈی کی عوام نے مودی لہر کے خلاف جاکر کانگریسی امیدواروں کی حمایت میں ووٹ دیا اور بھیونڈی کی تاریخ میں پہلی بار کانگریس پارٹی کو بلدیاتی انتخاب میں 90 نشستوں میں سے 47 نشستوں پر کامیابی دلا کر واضح اکثریت دی تھی ۔ اس کے بعد گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں جس طرح سے بھیونڈی کی عوام نے ایک طرفہ کانگریس کے حق میں ووٹ کر کانگریس کے امیدوار سریش ٹاورے کو دونوں سیٹوں پر اکثریتی ووٹوں سے برتری دی تھی اور کانگریسی قائدین کو کافی حوصلہ دیا تھا ۔ اس سے یہ قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ اس بار بھیونڈی کی دونوں سیٹوں پر کانگریس کی آسانی سے جیت ہوگی ۔ ٹکٹ کی تقسیم کے دوران بھیونڈی شہر کی دونوں سیٹوں پر بڑے پھیر بدل دیکھے گئے ۔ پہلے تو آئیں ۔ کانگریس ، این سی پی اتحاد کے بعد بھیونڈی مشرق اور مغرب کی دونوں نشستوں کو کانگریس کے کھاتے میں جانے کے بعد انتخاب نہ لڑنے کی پوزیشن میں پہنچ چکے بھیونڈی راشٹروادی کانگریس پارٹی کے مقامی صدر شیخ خالد گڈو نے پارٹی سے صدر کا عہدہ چھوڑ کر ایم آئی ایم کے ٹکٹ پر مغرب سے تال ٹھونک کر انتخابی میدان میں اتر گئے وہی سماجوادی کے ریاستی صدرابو عاصم اعظمی نے نیا داو کھیلنے کے ساتھ اپنی سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھیونڈی کے کسی بھی سماجوادی رہنما پر داو نہ لگا کر ممبئی کے بائیکلہ سے سماجوادی سے کارپوریٹر رئیس شیخ کو بھیونڈی مشرق سے سماجوادی کا امیدوار بنایا ۔ اسی طرح کانگریس پارٹی نے بھی مشرقی اسمبلی نشست پر امیدوار کو لے کر آخری لمحے تک چل رہی رسہ کشی میں نیا فارمولہ اپناتے ہوئے اس بار مشرق سے کسی مضبوط ہندو امیدوار دینے کا فیصلہ کیا اور بھیونڈی سے بی جے پی کے کارپوریٹر اور بھیونڈی شہر ضلع بی جے پی صدر سنتوش سیٹی کو آخری لمحے میں پارٹی میں داخل کرتے ہوئے ٹکٹ دے دیا ۔

اس کے بعد جیسے جیسے اسمبلی انتخاب میں تشہیری مہم زور پکڑتی گئی ویسے ویسے بھیونڈی میں سیاسی فضہ تیزی سے تبدیل ہوتی گئی ۔بھیونڈی کی سیاست میں اس وقت نئی سیاسی فضہ تیزی سے تبدیل ہوئی جب ایم آئی ایم کے قومی صدر اسدالدین اویسی نے بھیونڈی کے دیوان شاہ درگاہ گراؤنڈ میں جلسہ کیا ۔ اس وقت اویسی کی آمد پر جس طرح بھیونڈی کے مسلم نوجوانوں نے ایک تاریخی موٹرسائیکل کے قافلے کے ساتھ زبردست جلوس نکالا اور انھیں جلسہ عام تک کے اسٹیج تک لے گئے ۔ اس کے بعد جلسہ عام کے گراؤنڈ میں جمع زبردست ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے جس طرح سے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ہورہے دوہرے سلوک اور ان کے خلاف ہونے والے مظالم کو گن گن کر بیان کیا۔ جس کے لئے انھوں نے بی جے پی کے ساتھ ساتھ اتنا ہی قصور وار کانگریس پارٹی کو بھی مورد الزام ٹھہرایا ۔اویسی نے قوم و ملت کے لئے ایم آئی ایم کے امیدوار شیخ خالد گڈو کو کامیاب بنانے کی اپیل کی اور بھیونڈی مشرق اسمبلی سیٹ سے سماجوادی کے امیدوار رئیس شیخ کو بھی فاتح بنانے کی اپیل کی ۔ ساتھ ہی بھیونڈی کی عوام سے یہ کہنا نہیں بھولے کے وہ ان کی باتوں کی لاج رکھنا نہ بھولیں ۔ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اسی دن سے سیاسی فضہ بڑی تیزی سے بدل گئی ۔

بھیونڈی شہر کی دونوں نشستوں پر انتخابات ذاتی واد میں بدل گیا ۔ جس کے نتیجے میں سہ رخی مقابلے میں ہوئی ایک زبردست ٹکر میں مغرب کی سیٹ پر بی جے پی امیدوار مہیش چوگھلے نے بھاری ووٹوں سے جیت حاصل کی وہی بھیونڈی مشرق اسمبلی سیٹ پر سماجوادی کے رئیس شیخ نے دو بار ایم ایل اے رہے شیوسینا کے امیدوار روپیش مہاترے کو صرف ایک ہزار ووٹوں سے شکست فاش کر سماجوادی کی جھولی میں 10 برس بعد پھر سے سیٹ جیت کر ڈال دی ۔اس اسمبلی انتخابات میں سب سے بری حالت اور فضیحت کانگریس پارٹی کی ہوئی ۔ کانگریس کی سیٹ سے انتخاب لڑ رہے ہیں دونوں مضبوط امیدوار مغربی سیٹ سے بھیونڈی شہر ضلع کانگریس کے صدر شعیب گڈو مشرقی کی سیٹ سے بی جے پی سے کانگریس میں آئے سنتوش شیٹھی پھسل کر تیسری پوزیشن پر پہنچ گئے ۔اس الیکشن کے ساتھ ایک بات ضرور طئے ہوگئی ہے کہ بھیونڈی میں ایم آئی ایم اس الیکشن سے دھماکہ دار انٹری کر کے شہر کی سیاست میں خصوصا مسلم نوجوانوں میں اپنی گہرہ شاخت بنا لی ہیں ۔ اب آنے والے کسی بھی انتخابات میں ایم آئی ایم بھیونڈی میں کانگریس ، این سی پی اور سماجوادی کو سخت چیلنج دیں گی ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading