بھیونڈی: راشن کی کالابازاری عروج پر

بھیونڈی ( شارف انصاری):- بھیونڈی شہر کی سرکاری راشن کی دوکانوں پر ان دنوں راشن کی کالا بازاری اور گاہکوں کے لئے پر یونٹ مختص اناج کی مقدار میں سے چوری اور کم ناپ تول کی مسلسل شکایات موصول ہورہی ہیں ۔ اسی طرح دوکان کھلنے کا ٹائم صبح شام چار چار گھنٹے ہے مگر اس طرح سے وقت کی پابندی کوئی نہیں کررہاہے دوکان دار اپنی سہولیت سے دوکان کھولتے ہیں ۔ جس سے گاہکوں کو بار بار چکر لگا نے پڑتے ہیں.

اسی طرح بھیونڈی شہر میں راشننگ معاملے میں عوام کی رہنمائی اور ڈپارٹمنٹ سے مسلسل نبردآزما ایم پی جے کی ٹیم نے بتایاکہ کوئی بھی دوکاندار راشن ڈیلیوری کی الیکٹرانک پاوتی جو کہ گاہک کا حق ہے اسے کبھی نہیں دیتا کیونکہ اس پاوتی میں اناج کی مقدار اور قیمت درج رہتی ہے ۔اسی طرح بیشتر کارڈ ہولڈر اپنے حصے کا گھاسلیٹ اور اناج وہ خود نہیں لیتے بلکہ کسی ضرورت مند کو دلاتے ہیں ایسی صورت حال میں دوکان دار انھیں گھاسلیت تو دیتا نہیں اور راشن دینے میں بھی تحقیر آمیز جملوں سے نوازا جاتا ہے کہ جیسے دوکاندار خود اپنے گھر سے دیتا ہو اور ناپ تول میں بھی پھاندہ مارتے ہیں ۔اس ضمن میں سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ علاقائی کارپوریٹراگراس طرف متوجہ ہوجائیں تو فوری طور پر معاملہ کنٹرول میں آجائے گا مگر کارپوریٹروں کو تو اس اناج کی ضرورت نہیں ٹھیک ہے انھیں ضرورت نہیں اور وہ کبھی راشن کی دوکانوں پر جاتے بھی نہیں کیونکہ ان کے کارڈوں پر کوئی بھی خالہ ماموں یا ان کے سیکریٹری ہی اناج لیتے ہیں ۔

بھیونڈی شہر کے معروف شاعر و ادیب اور سماجی خدمت گار جناب شبیراحمد شاد کہتے ہیں کہ راشن کی دوکان والے بھی کارپوریٹر کا کارڈ جانتے ہیں انھیں آسانی سے راشن مل جاتا ہے اس لئے انھیں صحیح صورتحال کا اندازہ نہیں ہوتا اور اگر کبھی شکایت ملتی بھی ہے تو ان کا کام صرف فون پر ہوجاتا ہے اور دوکان دار ان سے بڑی اچھی اور نرم بات کرتا ہے جبکہ گاہکوں سے نفرت آمیز رویہ اپنایا جاتا ہے ضرورت ہے کہ کارپوریٹر خود دوکانوں پر جائیں اور وہاں لائنوں میں لگے دھوپ کھا رہے افراد سے پوچھیں اور گزشتہ دو تین ماہ کی رپورٹ لیں تب درست معلومات ملے گی اور دوکاندار بھی لائن پر آجائیں گے مگر ہمارے اکثر نمائندے کارپوریشن سے متعلقہ مسائل پر تو وہ آفسوں میں جاتےہیں یا انھیں بلاتے ہیں مگر اس کے علاوہ راشن آفس ۔تحصیلدار ۔پرانت ۔ادارہ صحت ۔ایجوکیشن آفس نہیں جاتے جبکہ ان آفسوں میں جانے کی کافی ضرورت ہے اور اس سے غریب کمزوروں کی مشکلات کم ہوں گی ۔ایم پی جے کی ٹیم نے بتایاکہ راشن کی دوکان والے سیدھے کہتے ہیں کہ جاو ہیڈ آفس میں شکایت کرو اور وہاں بھی جائیں تو ٹال مٹول کی جاتی ہے اور اوپر کا پروبلم بتایا جاتا ہے سرکاری سسٹم کی تکنیکی خرابیاں بتا کر خاموش کردیا جاتا ہے ۔اور دلالوں کے کام اور ان کے توسط سے پیسہ خرچ کرنے پر کام ہوتے ہیں ۔ایم پی جے ٹیم متحرک رکن محمد آصف نے بتایاکہ کہ ہر گاہک اپنا ایس آر سی نمبر انٹرنیٹ پر ڈال کر اپنے حصے کا مختص اناج کی مقدار دیکھ سکتا ہے اور تھوڑی معلومات حاصل کرکے دوکان داروں اور افیسروں سے بات کرنے پر کام ضرور ہوتا ہے ورنہ تو دوکان والے صارفین کو ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں کہ کارڈ کینسل کردیا جائےگا اور یہ اناج تو میں دے رہا ہوں ورنہ کارڈ پر کچھ آتا نہیں آصف کا کہنا ہے کہ سرکار نے کمپلینڈ بک لازمی کیا ہے اور ہم ایم پی جے کے لوگوں نے کارنر میٹنگ کرکے لوگوں کو بتایا کہ شکایات تو درج کراو ہینڈ بل ۔بینر ۔پوسٹرز بھی لگوائے ہیں مگر ہماری قوم خود ہی حرکت میں نہیں آرہی ہے آصف کمپاونڈ کے ایک شخص نے بتایاکہ ان کی متعلقہ راشن کی دوکان ۲۵۵ پریم نے کبھی راشن دیا ہی نہیں اور انگوٹھا لے کر یہی کہتا رہا کہ تمہارے کارڈ پڑ ابھی کچھ نہیں آریا ہے میں آگے کی کاروائی کرتا ہوں ۔لیکن ایم پی جے کے لوگوں نے جب ایس آر سی نمبر چیک کیا تو پتہ چلا کہ اوپر سے آرہا ہے دوکاندار خود ہڑپ کر رہاہے آصف کمپاونڈ ہی کے ملک عبد الواحد ۔اسی طرح اسلم نگر کی نفیسہ نامی خاتون نے بتایاکہ مجھکو دس کلو گیہوں اور پانچ کلو چاول دیتا ہے جبکہ سات یونٹ ہے لیکن جب ایس آر سی نمبر چیک کیا تو پتہ چلا کہ ۲۱ کلو گیہوں اور ۱۴ کلو گیہوں مجھکو ملنا چاہیے مولانا آزاد نگر سے ایک شخص نے بتایاکہ میرے کارڈ پر آٹھ نام ہیں اور گزشتہ دس برسوں سے صرف ۱۵ کلو گیہوں اور ۱۰کلو چاول مل رہا ہے جبکہ آن لائن ۲۴ کلو گیہوں اور ۱۶ کلو چاول ملنا چاہئے اسی طرح چار لیٹر گھاسلیت اور تین قسم کی دال بھی آن لائن میں میرے لئے بتائی جارہی ہے ۔لیکن کیا یہ مسلسل شکایات اور بدعنوانیوں کی اطلاع اعلی افیسران کو نہیں ہورہی ہے بھیونڈی شہر کی طرف جہاں اعلی حکام کو بطور خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے وہیں شہر کے بااثر افراد کو بھی اس مسئلے پر سنجیدہ ہونے کی سخت ضرورت ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading