بھیونڈی ( شارف انصاری):- بھیونڈی کارپوریشن میں بی جے پی کی خواتین کارپوریٹروں کی آواز دبایا جاتا ہے ۔ کارپوریٹروں کی طرف سے اگر کارپوریشن عام اجلاس میں وارڈ کے کسی مسئلہ کو اٹھایا جاتا ہے ۔ تو پارٹی کے دیگر کارپوریٹر انھیں سپورٹ نہیں کرتے ہے ۔ اس وجہ سے ان کے وارڈ کے مسائل کا تدارک نہیں ہو پاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے خواتین کا بی جے پی سے دل بیزار ہوتا جا رہا ہے ۔ اس طرح کا الزام بی جے پی کی خاتون کارپوریٹر کامنی پاٹل نے لگاتے ہوئے بی جے پی کو متنبہ کیا ہے کہ اگر پارٹی خواتین کا احترام کرنے کے ساتھ ان کے سپورٹ میں نہیں کھڑی رہیں گی تو جلد ہی سبھی خاتون کارپوریٹر پارٹی اور کارپوریٹر کے عہدے سے استعفی دیں گے ۔ اس کی شکایت انہوں نے پارٹی کے ہائی کمان سے بھی کی ہے ۔
بھیونڈی کارپوریشن پربھاگ نمبر 18 (الف) کی خاتون کارپوریٹر کامنی رویندر پاٹل نے الزام لگاتے ہوئے بتایا ہے کہ بی جے پی میں خواتین کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے بتایا ہے کہ جب بی جے پی کی کوئی خاتون کارپوریٹر کسی مسئلے کو جنرل اجلاس میں بحث کے لئے رکھنے کیلئے میئر کو مکتوب دیتے ہیں تو پہلے میئر مسئلے کو جنرل اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے سے کتراتے ہے اور اگر جنرل اجلاس کے ایجنڈے میں ان کا مدعہ شامل بھی کر لیا گیا تو انہیں بولنے کو مناسب وقت نہیں دیا جاتا ہے ۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے تو یہاں تک الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب خاتون کارپوریٹر کسی مسئلے کو جنرل اجلاس میں اٹھاتی ہے تو ان کا نہ تو پارٹی صدر حمایت کرتا ہے اور نہ ہی گٹ نیتا اور اپوزیشن لیڈر ان کے حق میں آواز اٹھتا ہے ۔ جس کی وجہ سے مہاسبھا میں مسئلہ پیش کرنے کے باوجود اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ اس وجہ سے بی جے پی کی خاتون کارپوریٹروں کے وارڈ میں پارٹی کے کارپوریٹروں کی بے حسی کی وجہ سے کوئی کام نہیں ہو پا رہا ہے ۔ جس کی وجہ بی جے پی کی خاتون کارپوریٹروں کا پارٹی سے دل بیزار ہو گیا ہے ۔ خاتون کارپوریٹر کامنی رویندر پاٹل سمیت دیگر پارٹی کی خاتون کارپوریٹروں نے پارٹی پر نظر انداز کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پارٹی خواتین کا احترام کرنے کے ساتھ ان کے سپورٹ میں نہیں رہیں گی تو جلد ہی سبھی خاتون کارپوریٹرز پارٹی اور اپنے عہدے سے استعفی دیں گے ۔ خاتون کارپوریٹروں کے اس اعلان کے بعد جہاں وزیر اعظم کے 50 فیصد خواتین ریزرویشن دینے کے اعلان کو جھٹکا لگ رہا ہے وہیں یہاں اس وجہ سے پارٹی کی مصیبتیں بھی بڑھ گئی ہے ۔ معلوم ہو کہ بھیونڈی کارپوریشن میں بی جے پی کے کل 20 کارپوریٹر ہے ۔ جس میں 11 کارپوریٹر خواتین ہے ۔ اس بار زیادہ تر خواتین پہلی بار منتخب کر کے آئی ہے ۔
بھیونڈی کارپوریشن پربھاگ نمبر 18 (الف) کی خاتون کارپوریٹر کامنی رویندر پاٹل نے الزام لگاتے ہوئے بتایا ہے کہ بی جے پی میں خواتین کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے بتایا ہے کہ جب بی جے پی کی کوئی خاتون کارپوریٹر کسی مسئلے کو جنرل اجلاس میں بحث کے لئے رکھنے کیلئے میئر کو مکتوب دیتے ہیں تو پہلے میئر مسئلے کو جنرل اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے سے کتراتے ہے اور اگر جنرل اجلاس کے ایجنڈے میں ان کا مدعہ شامل بھی کر لیا گیا تو انہیں بولنے کو مناسب وقت نہیں دیا جاتا ہے ۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے تو یہاں تک الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب خاتون کارپوریٹر کسی مسئلے کو جنرل اجلاس میں اٹھاتی ہے تو ان کا نہ تو پارٹی صدر حمایت کرتا ہے اور نہ ہی گٹ نیتا اور اپوزیشن لیڈر ان کے حق میں آواز اٹھتا ہے ۔ جس کی وجہ سے مہاسبھا میں مسئلہ پیش کرنے کے باوجود اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ اس وجہ سے بی جے پی کی خاتون کارپوریٹروں کے وارڈ میں پارٹی کے کارپوریٹروں کی بے حسی کی وجہ سے کوئی کام نہیں ہو پا رہا ہے ۔ جس کی وجہ بی جے پی کی خاتون کارپوریٹروں کا پارٹی سے دل بیزار ہو گیا ہے ۔ خاتون کارپوریٹر کامنی رویندر پاٹل سمیت دیگر پارٹی کی خاتون کارپوریٹروں نے پارٹی پر نظر انداز کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پارٹی خواتین کا احترام کرنے کے ساتھ ان کے سپورٹ میں نہیں رہیں گی تو جلد ہی سبھی خاتون کارپوریٹرز پارٹی اور اپنے عہدے سے استعفی دیں گے ۔ خاتون کارپوریٹروں کے اس اعلان کے بعد جہاں وزیر اعظم کے 50 فیصد خواتین ریزرویشن دینے کے اعلان کو جھٹکا لگ رہا ہے وہیں یہاں اس وجہ سے پارٹی کی مصیبتیں بھی بڑھ گئی ہے ۔ معلوم ہو کہ بھیونڈی کارپوریشن میں بی جے پی کے کل 20 کارپوریٹر ہے ۔ جس میں 11 کارپوریٹر خواتین ہے ۔ اس بار زیادہ تر خواتین پہلی بار منتخب کر کے آئی ہے ۔