
بھیونڈی ( شارف انصاری):- بھیونڈی پولیس ڈپٹی کمشنر آفس کی حد میں واقع كونگاو پولیس اسٹیشن کے تحت تعلقہ کے كونگاوں گرام پنچایت دفتر کے احاطے میں گٹر کے تنازعہ کو لے کر دو دھڑوں میں جم کر مار پیٹ ہوئی ۔ معاملے کی معلومات ملنے کے بعد پولیس جائے واردات پر پہنچ گئی اور ایک دوسرے کے خلاف کراس مقدمہ درج کر 17 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ابھی بھی تڑی پار علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے ۔پولیس ذرائع سے ملی معلومات کے مطابق كونگاو کے تڑی پار احاطے کی ایک عمارت سے گندہ پانی بہنے کے لئے گٹر تعمیر کا کام چالو تھا۔ اس وقت گرام پنچایت انتظامیہ کو نہ بتا کر گٹر کی تعمیر کا کام کی معلومات ملنے پر اس وارڈ کے گرام پنچایت رکن تجين كریل نے گٹر تعمیر کے کام کی مخالفت کی۔ ذرائع کے مطابق دو دن پہلے کریل اور گانگریکر خاندان میں اس گٹر کے متعلق تنازعہ ہوا تھا اس وقت کونگاوں پولیس نے دونوں گروہوں کو امن قائم رکھنے کے لئے نوٹس دیں کر ہدایت دی تھی ۔اس درمیان تنازعے کا حل نکالنے کے لئے بدھ کو صبح گرام پنچایت سرپنچ ڈاکٹر رپالی كرالے اور ان کے شوہر ڈاکٹر امول كرالے نے دونوں دھڑوں کے اہم لوگوں کو گرام پنچایت آفس بلایا تھا ۔آفس میں دونوں دھڑوں میں ملاقات کے درمیان بحث ہونے کے بعد دفتر سے باہر دونوں گروہوں میں اچانک پھر تنازعہ شروع ہوگیا اور زبردست مار پیٹ ہوئی ۔ اس حملے کی روک تھام کے لئے پولیس نے جگہ پر معمولی لاٹھی چارج کی ۔ موقع پر پہنچی پولیس نے مار پیٹ میں شامل دونوں دھڑوں کے 16 سے 18 افراد کو حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن لے آئی ۔ اس مارپیٹ میں پولیس نے فراز کھانڈے کی شکایت پر كریل دھڑے کے فردين كریل، سلیم كریل، نثار كریل، نہال كریل، نياز کریل، ازان کریل ، عاشق کریل سمیت 10 سے 15 افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے ۔۔ اس کے بعد فردين كریل کی شکایت پر سعيل، شہید، سادان، گانگریكار فرحان کھانڈے، وسیم شیخ، یاسین مجاور، راهل کھانڈے ،ساجد کھانڈے کے ساتھ 10 سے 15 لوگوں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ اس معاملے میں پولیس نے دونوں گروہوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد اب تک دونوں گروپوں کے 17 افراد کو گرفتار کیا ہے ۔ مذکورہ معلومات API این پی شریہونشی سرویشین نے صحافیوں کو دی ۔ آج جمعہ کے روز عدالت میں سبھی گرفتار افراد کو پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے سبھی کو جیل بھیج دیا ہے ۔
