بڑھتے ہوئے ٹرین حادثات: راشٹروادی کانگریس پارٹی (ایس پی) کا ریلوے انتظامیہ کو انتباہ امتحانات کے اوقات میں تبدیلی و امتحان کے وقت ٹرین کا ایک ڈبہ طلبہ کے لیے مختص کرنے کا مطالبہ

تھانے (آفتاب شیخ)
عروج کے اوقات میں سست رفتار مقامی ٹرینوں کی تعداد میں اضافہ نہ کیے جانے کے باعث مسافروں کا ہجوم بڑھتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے مسافر ٹرین سے گر کر جان بحق ہورہے ہیں اسطرح کا الزام راشٹروادی کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) نے ریلوے مینجمنٹ پر لگایا یہاں تھانے اسٹیشن پر این سی پی رہنماؤں نے سروے کیا اور مطالبہ کیا کہ نئی ریلوے لائنوں پر عروج کے اوقات میں سست رفتار لوکل ٹرینیں زیادہ چلائی جائیں اور ساتھ ہی دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کے لیے ایک کوچ کو ریزرو رکھا جائے۔ اس دوران تھانے شہر (ضلع) صدر منوج پردھان نے انتباہ دیا کہ اگر ٹرین حادثات کو روکنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو سخت احتجاج کیا جائے گا۔
10 فروری 2026 کو سوہم کٹرے نامی ایک طالب علم جو بارہویں جماعت کا پہلا پرچہ دینے جا رہا تھا، دیوا اور ممبرا کے درمیان بھیڑ کی وجہ سے لوکل ٹرین سے گرگیا اور اس کی موت ہو گئی۔ جس پر راشٹروادی کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کے قومی جنرل سکریٹری و رکن اسمبلی ڈاکٹر جتیندر اوہاڈ کی رہنمائی میں پارٹی کے تھا نے شہر (ضلع) صدر منوج پردھان کی قیادت میں ریلوے منیجر کے دفتر پر پہنچ کر اسٹیشن منیجر اپرنا دیودھرکو ریلوے مسافروں کے مسائل کو پیش کیے۔ دیودھر نے ان مسائل کا حل تلاش کرنے کا یقین دلایا۔ اس دوران مطالبہ کیا گیا کہ چونکہ سوہم کٹرے نامی طالبعلم کی موت ٹرین میں بھیڑ کی وجہ سے ہوئی تھی اس لیے اس بھیڑ کو قابو کرنے کے لیے سست رفتار ٹرینوں کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے، پانچویں اور چھٹے ریلوے ٹریک کی تعمیر کے بعد جب کہ تیسرے اور چوتھے ٹریک پر سست رفتار ٹرینیں چلانا ضروری ہیں۔ ان پر تیز رفتار ٹرینیں چلائی جارہی ہیں اس کے نتیجے میں کوپر، ٹھاکرلی، دیوا، ممبرا اور کلوا اسٹیشنوں پر بھیڑ بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا عروج کے اوقات میں (بالترتیب صبح 7 بجے سے 11 بجے اور شام 5 بجے سے 9 بجے تک) سست رفتار ٹرینیں تیسرے (اپ) اور چوتھے (ڈاون) ٹریک پر چلائی جانی چاہئیں، پندرہ بوگیوں والی لوکل ٹرینوں کو چلانے کے بجائے اے سی لوکل ٹرینوں کی تعداد کم کی جائے اور سلو لوکل ٹرینوں کی تعدد میں اضافہ کیا جائے۔ دیوا اسٹیشن کے ہوم پلیٹ فارم سے لوکل ٹرینیں شروع کی جائیں اور اگر ممکن ہو تو ممبرا سے ممبئی جانے والے مسافروں کی تعداد کے باعث ممبرا سے چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس لوکل ٹرینیں شروع کی جائیں۔ اسٹیشن منیجر دیودھر نے بھی وفد سے کہا کہ ان کے مطالبات کو کو آگے بڑھایا جائےگا۔
ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے منوج پردھان نے کہا کہ سینٹرل ریلوے پر ہر سال 2180 حادثاتی اموات ہو رہی ہیں۔ تھانے اسٹیشن کے علاقے میں ہر سال 287 حادثات ہو رہے ہیں۔ یعنی روزانہ اوسطاً سات اموات ہو رہی ہیں۔ یہ اموات صرف ہجوم کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ اگرچہ اے سی ٹرینوں کی ضرورت ہے لیکن لگاتار اے سی ٹرینیں چلانے کے بجائے دو اے سی ٹرینوں کے درمیان دو سے تین عام لوکل ٹرینوں کو چھوڑنا ضروری ہے۔ تاکہ بھیڑ کم کرنے میں آسانی ہو۔ کوسہ اور شل کے لوگ ممبرا اسٹیشن پر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہاں بھی ہوم پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔ منوج پردھان نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ محکمہ تعلیم سے بھی درخواست کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ہونے والے امتحانات عروج کے دور میں نہ ہوں اور ہم نے ریلوے سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ امتحان دینے والوں کے لیے ایک کوچ ریزرو کرے۔ اس دوران، بڑھتی ہوئی بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے، تیسرے اور چوتھے ٹریک پر سست لوکل ٹرینوں کو چلانا ضروری ہے۔