بچہ ایک ہی اچھا‘: دنیا بھر میں ایک ہی بچہ پیدا کرنے کے رجحان میں روز بروز اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

سخت ہوتے ہوئے معاشی حالات کے پیش نظر دنیا بھر میں بہت سے والدین اب بس ایک ہی بچہ پیدا کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں۔سنہ 2018 میں جب جین ڈالٹن حاملہ ہوئیں تو انھوں نے اپنی زچگی کی چھٹی، بچے کی ولادت کے بعد دوسرے بچے میں وقفہ، صحت کی دیکھ بھال اور یہاں تک کہ ممکنہ خاندانی چھٹیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک پورا منصوبہ بنایا۔ وہ چار بچے پیدا کرنا چاہتی تھیں اس لیے انھوں نے یہ بھی منصوبہ بنایا کہ کب اور کتنے وقفے سے یہ بچے ہوں گے۔

31 سالہ ڈالٹن کتی ہیں کہ ’میں کاغذ پر لکھے ہوئے اپنے اس منصوبے کو اب بھی وقتاً فوقتاً دیکھتی ہوں اور یہ سوچ کر ہنستی پڑتی ہوں کہ اس وقت میں کتنی نادان تھی۔‘

اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی پہلی بیٹی کی پیدائش کے صرف دو ماہ بعد ہی انھوں نے اور ان کے شوہر نے فیصلہ کیا کہ وہ صرف ایک ہی بچے پر اکتفا کریں گے۔ اُس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ بچی کی پیدائش کے بعد اُن کو نیند کی کمی کا سامنا کرنا پڑا اور اپنی ذہنی صحت کو برقرار رکھنے میں بھی انھیں مشکل پیش آئی۔
ڈالٹن بچی کی پیدائش کے بعد کچھ عرصے تک پیدائش کے بعد ہونے والے ڈپریشن سے نبرد آزما بھی رہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب انھوں نے چار بچوں کے اپنے منصوبے کو رد کر دیا۔ مگر بچی کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد جب وقت کے ساتھ اُن کی زندگی قدرے آسان ہو گئی تو بھی انھیں اپنا ایک بچے کا فیصلہ درست محسوس ہوا۔

کینیڈا کے اونٹاریو میں مقیم ڈالٹن اور ان کے شوہر اس سب سے دوبارہ گزرنے اور اپنی فیملی کی فلاح و بہبود کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے بلکہ یہ بھی کہ وہ یہ جانتے تھے کہ اپنے بچے کو بہن بھائی ’نہ دینے‘ کے معاملے میں بھی وہ ’غلط‘ نہیں ہیں۔ ڈالٹن کہتے ہیں کہ ’میں خود اپنے والدین کا اکلوتا بچہ ہوں، اور میں بہت خوش ہوں۔ میں اپنے والدین کے بہت قریب ہوں۔‘

مگر پھرسنہ 2022 میں ڈالٹن کے ارادے ڈگمگا گئے۔ دونوں میاں بیوی نے سوچا کہ دوسرے بچے کی پیدائش کی صورت میں اب وہ درپیش ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے زیادہ تیار ہوں گے اور پھر سوشل میڈیا پر ایسا مواد بھی ان کے سامنے تھا جس میں دو بچے ہونے کی صورت میں ملنے والے فوائد پر بات کی گئی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ان سب نے واقعی ہمیں ایسا سوچنے پر مجبور کیا کہ ’ہاں، ہم دوبارہ ایسا (بچہ پیدا) کر سکتے ہیں۔‘

اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ڈالٹن نے اپنے فیصلے پر دوبارہ نظر ثانی کرنا شروع کر دی۔

دنیا کے بہت سے ممالک میں صرف ایک بچہ پیدا کرنا ہی معمول بنتا جا رہا ہے تاہم روایت پسند معاشروں اور گھرانوں میں ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے کا دباؤ ابھی بھی باقی ہے۔ اکلوتے بچے کے بگڑ جانے یا بہن بھائی نہ ہونے کے باعث تنہا محسوس کرنے کے بارے میں دقیانوسی تصورات مسلسل مسترد کیے جانے کے باوجود آج بھی برقرار ہیں۔

بہت سے والدین کا کہنا ہے کہ نہ صرف اپنے خاندان والوں سے بلکہ دوستوں اور اجنبیوں تک سے انھیں ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے کا دباؤ محسوس کروایا جاتا ہے۔

اگرچہ ایک بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کرنا زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے تاہم اس پس منظر میں جو شور ہوتا ہے اس سے والدین کے لیے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ انھوں نے ٹھیک فیصلہ کیا ہے۔ ان کے لیے نہ صرف دوسروں کو قائل کرنا بلکہ خود کو بھی قائل کرنا مشکل ہوتا ہے کہ انھوں نے درست فیصلہ کیا یا نہیں۔
بہت عام، لیکن پھر بھی نکتہ چینی
20ویں صدی کے وسط میں مانع حمل کے شعبے میں انقلاب آنے کے بعد سے خاص طور پر بہت سی خواتین کو بچے پیدا کرنے کے فیصلوں پر کسی حد تک اختیار اور کنٹرول ملا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ واضح سماجی اور ثقافتی رجحانات بھی موجود ہیں۔

بہت سے ممالک میں کم بچے پیدا کرنے کے رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ یورپی یونین کے ممالک کے ان خاندانوں میں جہاں بچے موجود ہیں وہاں 49 فیصد خاندانوں میں ایک بچہ ہے۔ کینیڈا میں اکلوتے بچے والے خاندانوں کا سب سے بڑا گروپ ہے جو کہ اگر سنہ 2001 میں 37 فیصد تھا تو وہ سنہ 2021 میں بڑھ کر 45 فیصد ہو گیا ہے۔

چونکہ مردم شماری کا ڈیٹا صرف ایک بڑی مدت کے دوران ایک وقت کی ہی تصویر پیش کرتا ہے اس لیے ماؤں کو ان کے آخری بچے پیدا کرنے کے قریب دیکھنا اکلوتے بچوں کی مقبولیت کی پیمائش کرنے کا ایک بہتر طریقہ ہے۔ اس بنیاد پر اگر دیکھا جائے تو امریکہ میں سنہ 2015 میں 18 فیصد ماؤں کے ہاں صرف ایک بچہ تھا جو کہ اس سے قبل سنہ 1976 میں 10 فیصد تھا۔

یہ حقیقت بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اب خواتین دیر سے (تھوڑی بڑی عمر میں) بچے پیدا کر رہی ہیں۔ ’ون اینڈ اونلی: دی فریڈم آف ہیونگ اونلی چائلڈ‘ اور ’جوائے آف بینگ ون‘ کی مصنفہ اور تحقیقاتی صحافی لارین سینڈلر کہتی ہیں کہ اس میں انتخاب کا عنصر بھی شامل ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی صرف ایک بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتا کہ (اکلوتے بچوں والے خاندانوں میں اضافہ) سب کچھ تاخیر سے بچہ پیدا کرنے کی وجہ سے ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’یہ ٹھیک ہے، یہ انتخاب کرنے کا بھی ایک طریقہ ہے؟ آپ کہتے ہیں کہ بہت سی دوسری چیزیں ہیں جو واقعی میرے لیے اہم ہیں، اور میں ان کو ترجیح دوں گی، اور امید ہے کہ میں وہاں پہنچ جاؤں گی۔ اس کے بجائے (وہ یہ نہیں کہتے کہ) ان چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور سب سے پہلے میرا ماں بننا آتا ہے۔‘بچوں کی مثالی تعداد کے بارے میں نظریات بھی وسیع پیمانے پر بدل رہے ہیں۔ صدیوں تک ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے کو ترجیح دیا جانا سمجھ میں آتا ہے۔ یہاں تک کہ صرف دو صدیاں پہلے تک پیدا ہونے والے 10 میں سے چار بچے کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہو کر اپنی پانچویں سالگرہ سے پہلے ہی مر جاتے تھے۔ ایک سے زیادہ بچے کے ہونے سے خاندان کو چلاتے رہنے کے لیے درکار بہت سے کاموں میں مدد ملتی تھی۔ اور قابل اعتماد مانع حمل کی غیر موجودگی میں، اور خواتین کی شادی کم عمر میں ہونے کی وجہ سے یقیناً ایک ہی بچہ پیدا کرنا بہت پسندیدہ نہیں تھا۔

تاہم آج بہت سی ثقافتوں میں (اگرچہ سبھی میں نہیں) تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔

اس معاملے میں پرتگال ایک اچھی مثال ہے جہاں ایسے خاندان 59 فیصد ہیں جہاں اکلوتے بچے ہیں۔ جبکہ پہلی بار ماں بننے والی خواتین کی عمر 2001 میں 26.6 سال سے بڑھ کر سنہ 2019 میں 29.9 سال ہو گئی ہے اور تقریباً ہر پانچ میں سے ایک عورت آج بھی کہتی ہے کہ ایک بچہ مثالی خاندانی سائز ہے۔

اس سے قبل سنہ 1970 کی دہائی سے پہلے امریکہ میں ہونے والے ایک سروے کے جواب دہندگان میں سے صرف ایک فیصد کا خیال تھا کہ صرف ایک بچہ پیدا کرنا بہتر ہے۔ جبکہ ابھی بھی ایسا چاہنے والے وہاں بہت کم ہیں لیکن وہاں اب ایک بچہ پیدا کرنے کا تناسب تین گنا بڑھ گیا ہے۔
بہر حال ان سب کے باوجود جو والدین شعوری طور پر ایک ہی بچہ پیدا کرنا چاہتے ہیں انھیں قابل تقلید مثال نہیں سمجھا جاتا ہے۔ جب سنہ 2008 میں سینڈلر ماں بنیں تو وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے اپنے آپ کو اس بچے کے ساتھ پایا جس کے لیے میں دیوانی تھی۔‘

لیکن وہ اپنے کریئر کی طرح اپنی زندگی کے دیگر عناصر سے بھی محبت کرتی تھیں۔ وہ ’زچگی کی سزا‘ جیسے مسائل سے بخوبی واقف تھیں، تاہم انھیں ایک ہی بچہ پیدا کرنا ’سب سے‘ مناسب لگا۔

وہ کہتی ہیں ’میں اس بات سے بہت پُرجوش تھی کہ اس بچے کو ایک متحرک انداز میں پیار کرنے اور اس کی پرورش کرنے کے قابل ہونے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ اور پھر بھی یہ سارے ثقافتی شور بھی دماغ میں رینگتے رہے۔ سب وے اور سپر مارکیٹ میں لوگ مجھے روک کر اس طرح کی باتیں پوچھتے کہ ’دوسرا کب ہو گا؟‘ اور میں صاف گوئی سے کہہ دیتی کہ ’میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔‘

مگر بعض اوقات اچانک ایسا لگتا جیسا کہ میں نے کوئی غلطی کر دی ہے۔ اگر آپ کی ایسی پسند ہے تو پھر دنیا آپ کو کیوں ایسا کہہ رہی ہے کہ آپ ’اچھے والدین نہیں ہیں‘ یا یہ کہ ’آپ ایک خوفناک عورت ہیں؟‘اس طرح کے فیصلوں کا صرف والدین کو ہی سامنا نہیں ہوتا بلکہ اکلوتے بچے کو بھی ’عجیب‘ کہا جاتا ہے۔

یہاں تک کہ اس طرح کی کلنک والی کـچھ باتیں سنہ 2000 کی دہائی تک بھی قائم و دائم ہیں اور ایسا پاپ کلچر میں بھی ہے۔ سینڈلر نے مشہور ٹی وی شو گِلی کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ شو میں دقیانوسی تصورات کو توڑنے کی کوششوں کے باوجود ایک مرکزی کردار کو ’بگڑے‘ ہوئے اور ’پریشان کرنے والے‘ اکلوتے بچے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔کینیڈا کے کیلگیری میں رہنے والی 25 سالہ وکٹوریہ فاہی کہتی ہیں کہ ’میں نے بہت سارے تبصرے سنے کہ ’اوہ، اسے اکلوتے بچوں کا سنڈروم ہو گیا ہے۔۔۔ وہ (اکلوتا بچہ) شیئر کرنے سے قاصر ہو گا، وہ بگڑا ہوا ہو گا۔۔۔ میں ایسے بہت سے لوگوں سے واقف ہوں جن کے بہن بھائی بھی ہیں مگر پھر بھی وہ بگڑے ہوئے اور بدتمیز کہلائے جانے کے حقدار ہیں۔ صرف اکلوتا ہونے کی وجہ سے یہ کہنا پاگل پن ہے۔‘

(درحقیقت، اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ اکلوتے بچے بہن بھائیوں والے بچوں کے مقابلے میں کم بہتر یا کم کامیاب ہوتے ہیں۔)
آج کل بچوں کی پرورش کرنا مہنگا ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں دو بچوں کی پرورش پر اوسطاً 310,605 ڈالر خرچ آتے ہیں، جس میں کالج کی ٹیوشن فیس شامل نہیں ہے۔ برطانیہ میں والدین کو ایک بچے کی پرورش پر تقریباً 160,000 پاؤنڈ یا 194,607 امریکی ڈالر کا خرچہ کرنا پڑتا ہے۔ آسٹریلیا میں ایک اندازے کے مطابق یہ خرچ تقریبا 160،000 آسٹریلین ڈالر ہے۔

سینڈلر کا کہنا ہے کہ پچھلی نسلوں کے مقابلے میں نئی نسل کے والدین کو درپیش زندگی کے چیلنجز اس معاملے میں زیادہ سخت ہونے پر مجبور کر رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’ہم نے اعلیٰ تعلیم کو سستی بنانے، یا اپنے ٹیکس کے نظام کو تبدیل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، یا مکانات کے بڑھے ہوئے اخراجات کو محدود کیا، یا کوئی ایسا کام کیا جس سے ایک قابل عمل زندگی ممکن ہو۔ آخر اس طرح کے حالات میں کیسے میں ایک بچے کو دنیا میں لاؤں؟ اور پھر اسی پیچیدہ حالات میں دو بچوں کو کیسے لاؤں؟‘

فاہی کہتی ہیں کہ ’اگر میرا بیٹا فٹبال اور ہاکی اور موسیقی میں جانا چاہتا ہے، تو میں اسے وہ سب چیزیں دینے کے قابل ہونا چاہتی ہوں، یہ نہیں کہنا چاہتی کہ ’ارے نہیں، آپ کا بھائی ہاکی میں جانا چاہتا ہے، اس لیے آپ صرف فٹبال کھیل سکتے ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ اسے بغیر کسی رکاوٹ کے وہ سب بننے کے تمام مواقع ملیں جو وہ بننا چاہتا ہے۔‘

بعض اکلوتے بچے کے والدین اس بات پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کو وراثت میں مستقبل میں کیا ملنے والا ہے۔ فاہی کہتی ہیں کہ ’یہ سیارہ (زمین) مر رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اسے صاف کرنے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔ ہم آنے والی نسلوں کے لیے یہ پریشانی چھوڑ رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ واقعی خوفناک ہے۔ وسائل کے لیے جدوجہد بھی ہو سکتی ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ میرا بچہ کبھی پریشان ہو کہ اسے پانی کہاں سے ملے گا۔‘(بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading