بضمن جشن ِ ”ورق تازہ“ محمدتقی کی کتاب”مٹی کے چاندستارے ” کااجراء‘سوشل میڈیااور پرنٹ میڈیاپر سمینار

ناندیڑ:6اگست ( ورق تازہ نیوز)ناندیڑ اور پر بھنی سے ایک ساتھ شائع ہونے والے روزنامہ ”ورق تازہ“ کے 30 سالہ جشن کے ضمن میں بروز اتوار 4 اگست 2024 کو صبح 11 بجے اتھیتی ہوٹل ناندیڑ میں معروف سینیئر صحافی وہ ادیب محمد تقی کی نثری تصنیف ”مٹی کے چاند ستارے“ کا اجراءناندیڑ جنوب حلقہ اسمبلی کے ایم ایل اے موہن ہمبرڈے کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس تقریب رسم اجرا کے موقع پر ہوٹل کا میٹنگ ہال کھچا کچ بھرا ہوا تھا اور اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کر رہا تھا۔ روزنامہ ”ورق تازہ“ نے خصوصی سپلیمنٹ بھی شائع کیا جس کا اجراء جلسے کے صدر معروف سینیئر ایڈوکیٹ وہ بزرگ قائد ایڈوکیٹ قاضی محمد ذوالفقار الدین صدیقی نے کیا۔

ابتدا میں 30 سالہ جشن استقبالیہ کمیٹی کے صدر محمود علی سحر نے تقریب رسم اجرا ءاور ورق تازہ کے 30 سالہ صحافتی سفر پر روشنی ڈالی۔ ایڈوکیٹ صدیقی نے اپنی صدارتی تقریر میں محمد تقی اور محمدنقی شاداب کو مبارکباد پیش کی ۔انھوں نے ناندیڑ میں اردو اخبارات کی تاریخ بھی بیان کی۔” مٹی کے چاند ستارے“ کے بارے میں کہا کہ اس میں علاقہ مراٹھواڑہ کی اہم ادبی ‘سماجی اور سیاسی شخصیات پر جامع مضامین ہیں ۔انہوں نے خاص طور پرغفارراہی مرحوم پر لکھے مضمون کا ذکر کیا کہ” ایک مزدور شاعر“ پر بھی کتاب میں مضمون شائع ہے۔ موہن انا ہمبرڈے نے اپنی تقریر میں ورق تازہ کی ٹیم کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ میں پہلی بار اتنے زیادہ تعلیم یافتہ افراد کو کسی اخبار کے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ۔مجھے اس پر فخر ہے۔ میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرے ہاتھوں سے” مٹی کے چاند ستارے“ کتاب کا اجرا ہو رہا ہے۔

جو شخص 30 سال تک صاف ستھری صحافت کرتا ہے وہی 30 سالہ جشن منانے کا مستحق ہے ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ورق تازہ اپنا 50 سالہ جشن بھی منائے گا ۔شہر کی معروف سیاسی شخصیت شفیع احمد قریشی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محمد تقی صاحب نے مسلسل جدوجہد کی اور صحافت کا ایک معیار برقرار رکھا۔ سماج کے مسائل بالخصوص ملی مسائل کی یکسوئی کے لیے ذہن سازی کی۔ اخبار کا یہ سفرآگے بھی جاری رہے گا۔ ممبئی سے شائع ہونے والے روزنامہ اخبار ہندوستان کے ایڈیٹر جناب سرفراز ارزو نے کہا کہ 30 سال مکمل ہونے کے باوجود ورق تازہ آج بھی تازہ ہے۔محمدتقی نے جدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے اپنے اخبار کو اس سے مربوط کر دیا آج ورق تازہ ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں داخل ہو چکا ہے ۔اس کا یہ فائدہ ہوا کہ اخبار معاشی طور پر کافی مضبوط ہوا ہے ۔

ممبرا( ضلع تھانہ) سے تشریف لائے ڈاکٹر محمد شبیہہ احمد( ماہر امراض شوگر) نے کہا کہ محمد تقی صاحب میرے بڑے بھائی ہیں جنہوں نے ہمارے خاندان کو تعلیمی اور معاشی شعبہ حیات میں ایک باوقار مقام دلوانے میں بڑی محنت اور جدوجہد کی ہے ۔آج یہ فیملی معاشی طور پر کافی مستحکم ہو چکی ہے۔اردو کے لیے جہد مسلسل کرنے والے اردو کے بے لوث خادم خالد سیف الدین (اورنگ آباد) نے اپنی جامع تقریر میں کہا کہ گزشتہ 40 سال سے محمد تقی صاحب سے ان کے روابط ہیں۔ انہوں نے جس ڈاکٹر ذاکر حسین ہائی سکول پر بھنی میں ملازمت کی وہ اسی اسکول کے طالب علم رہ چکے ہیں۔ اس طرح تقی صاحب میرے استاد ہوتے ہیں۔انہوں نے ورق تازہ کے 30 سالہ صحافتی سفر کو ایک بڑی کامیابی بتایا ۔

اورنگ آباد سے تشریف لائے پرفیسر عبدالقادر نے کہا کہ محمد تقی کی بے لوث اردو اور ادبی خدمات سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ ان کی دو کتابوں کے اجرا ءکے موقع پر اپنے اخبار ورق تازہ نے مجھ پر خصوصی شمار چھاپے ‘اورنگ آباد میں تقاریب اجراءکے میں شرکت کی میں ان کی خدمات اور ”مٹی کے چاند ستارے“ کے اجرا پر انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ محمد تقی نے تمام مہمان خصوصی اور سامعین کرام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ جب یکم مئی 1994 کو پربھنی سے روزنامہ ورق تازہ جاری کیا گیا تھا تو انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ اپنے سفر کے 30 سال مکمل کر لے گا اور ایک معتبر و معروف اخبار کی حیثیت سے مقبولیت حاصل کرے گا ۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ 30 سال کے دوران مختلف موقعوں پر مضامین لکھے یہ مضامین مختلف شخصیات پر ہیں اور انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ مضامین” مٹی کے چاند ستارے “کے نام سے کتابی شکل میں شائعہوں گے۔ محمد تقی نےمزید کہا کہ انہوں نے یہ بھی کبھی نہیں سوچا تھا کہ اللہ رب العزت انہیں سامعین میں سے اٹھا کر شہ نشین پر بیٹھائے گا۔

یہ مالک حقیقی کا بڑا کرم وہ احسان ہے کہ اس نے انہیں ان کے اخبار کو بڑی شہرت اور عزت بخشی۔صحافی وادیب ضیاءالدین(پربھنی) نے بھی اظہار خیال کیا۔ معروف صحافی ابوبکر رہبر (اورنگ آباد) ‘ضیاءالحسن (ناندیڑ) ‘ڈاکٹر مرزامصطفی علی بیگ جاوید کمال (حیدر آباد) نے محمدتقی کی شخصیت اور ادبی خدمات پر پُرمغز اورجامع مضامین سناکر سامعین کا دل جیت لیا۔ پہلے سیشن کی نظامت کے فرائض معروف ادیب افسانہ نگار اور نقاد پروفیسر ڈاکٹر نور الامین نے بڑی عمدگی سے انجام دیے۔دوسرے سیشن میں بعنوان” سوشل میڈیا پرنٹ میڈیا کے لیے چیلنج“ ایک کامیاب سیمینار منعقد ہوا۔

جس کی صدارت سرفراز ارزو( ممبئی) نے کی اپنی صدارتی تقریر میں سرفراز آرزو نے سوشل میڈیا کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا پرنٹ میڈیا کے لیے چیلنج تو ہے مگر پرنٹ میڈیا کبھی ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے اردو اخبارات سے نئی انفارمیشن ٹیکنالوجی کو اپنانے کی اپیل بھی کی۔ سیمینار میں پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیع الدین ناصر( اورنگ آباد)‘ ڈاکٹر مرزا مصطفی علی بیگ جاوید کمال (حیدرآباد )اور پروفیسر ڈاکٹر نور الامین نے اپنے مقالے پیش کیے۔ سینیئر صحافی الطاف ثانی نے بہت عمدگی کے ساتھ سیمینارکی کاروائی چلائی ۔اظہار تشکر محمد مظفر الدین اور حبیب مسعود علی نے ادا کیے ۔دونوں سیشن میں شہر اور بیرون شہر کی معزز ادبی‘ علمی ‘سماجی ‘سیاسی وصحافتی شخصیات نے شرکت کی۔