بریکینگ نیوز: ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات پر امریکہ کی بمباری

صدر ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر ایک "انتہائی کامیاب” حملہ کیا ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی طیارے ایرانی فضائی حدود سے بحفاظت نکل چکے ہیں اور واپسی کے راستے پر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان طیاروں نے فردو پر بھاری بمباری کی۔

اپنی بات مکمل کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ دنیا کی کوئی بھی فوج وہ کچھ نہیں کر سکتی جو امریکی افواج نے کیا ہے اور اعلان کیا: "اب وقت آ گیا ہے امن کا”۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ فردو کا جوہری مرکز اب باقی نہیں رہا اور ایران پر زور دیا کہ وہ جنگ ختم کرنے پر رضامند ہو جائےان کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ نہ صرف امریکہ بلکہ اسرائیل اور پوری دنیا کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔

دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے "رایئٹرز” کے حوالے سے بتایا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے ان حملوں میں امریکی بی-2 بمبار طیارے استعمال کیے گئے۔

یہ بات معروف ہے کہ بی-52 بمبار طیارے ایسے بھاری بم لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جنہیں ماہرین ان قسم کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے موزوں ترین قرار دیتے ہیں۔

ایرانی حکام کی فردو سمیت تمام تین جوہری تنصیبات پر حملے کی تصدیق
امریکہ کی جانب سے ایران میں فردو پر حملے کے بعد ایک ایرانی عہدیدار کی جانب سے سرکاری طور پر اس حملے کی تصدیق کی گئی ہے۔تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، قم صوبے کے کرائسس مینجمنٹ کے ترجمان مرتضی حیدری کا کہنا ہے کہ ’فردو نیوکلیئر سائٹ کے علاقے کے ایک حصے پر فضائی حملہ کیا گیا۔‘

یہ وہی نیوکلیئر سائٹ ہے کہ جس کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک سوشل ٹروتھ پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’فردو تباہ ہو گیا ہے۔‘دوسری جانب اصفہان کے سکیورٹی ڈپٹی گورنر اکبر صالحی نے حال ہی میں کہا ہے کہ ’نطنز اور اصفہان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ہم نے اصفہان اور نطنز کے جوہری مقامات کے قریب حملے دیکھے۔‘

ٹرمپ کی جانب سے جن تینوں فضائی حملوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کی تصدیق ایرانی حکام نے بھی کر دی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading