Investment Tips, Best Mutual Funds in India, Silver Commodity Trading, Gold Rate Forecast 2026, MCX Live Chart India, Gold ETF Inflows, Investment Portfolio Diversification.
Trending Keywords: Today Gold Rate in Mumbai, Silver Price Crash India, Best time to buy Gold in India, 22K vs 24K Gold Price, Senco Gold, Tanishq Gold Rate Today.
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تاریخی گراوٹ: MCX Gold and Silver Price Crash in India
نئی دہلی/ممبئی:
— AdSense Ad Here (Horizontal) —
بھارتی صرافہ بازار میں مسلسل ریکارڈ توڑ تیزی کے بعد آج Gold and Silver Prices میں ایک بڑا زلزلہ دیکھا گیا۔ جمعہ کی صبح Multi Commodity Exchange (MCX) پر کاروبار کے آغاز کے ساتھ ہی Precious Metals کی قیمتیں تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئیں۔ Silver Price in India جو گزشتہ روز 4 لاکھ کے پار تھی، اب ہزاروں روپے نیچے آ گئی ہے۔
بلند ترین سطح کے مقابلے میں چاندی تقریباً ₹44,000 اور سونا ₹18,000 فی دس گرام سستا ہو چکا ہے۔
چاندی کی قیمت میں زبردست کریش: Silver Rate Today Update
جمعرات کو Indian Bullion Market میں چاندی نے نئی تاریخ رقم کی تھی جب اس کی قیمت ₹4,20,048 per kg تک جا پہنچی تھی۔ لیکن آج صبح MCX Silver Market کھلتے ہی بھاری Profit Booking دیکھی گئی۔ چاندی ایک ہی جھٹکے میں ₹24,000 ٹوٹ کر ₹3,75,900 پر آگئی۔
| دھات (Metal) | کل کی قیمت (Peak) | آج کی قیمت (Current) | کل کمی (Drop) |
|---|---|---|---|
| Gold (24K/10g) | ₹1,93,000 | ₹1,75,000 | ₹18,000 |
| Silver (1kg) | ₹4,20,048 | ₹3,75,900 | ₹44,148 |
— AdSense Ad Here (In-Article) —
سونے کی قیمت: 24K Gold Rate Today 10 Grams
Gold Market میں بھی آج شدید مندی دیکھی گئی۔ جمعرات کو 24 قیراط سونے نے ₹1,93,000 کی سطح کو چھوا تھا، مگر آج Gold Future Trading میں زبردست دباؤ کے بعد قیمت ₹1,75,000 کے قریب آ گئی۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ Market Volatility کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔
مارکیٹ کریش کی بڑی وجوہات (Market Analysis)
- Profit Booking in Bullion: ریکارڈ قیمتوں کے بعد بڑے سرمایہ کاروں نے منافع نکالا۔
- Geopolitical Stability: امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اشاروں نے Safe Haven Assets کی طلب کم کر دی۔
- Strong US Dollar: عالمی منڈیوں میں Dollar Index کی مضبوطی نے قیمتوں کو نیچے دھکیل دیا۔
— AdSense Ad Here (Matched Content) —
مسلسل کئی دن کی ریکارڈ توڑ تیزی کے بعد جمعہ 30 جنوری 2026 کی صبح صرافہ بازار میں سونا اور چاندی دونوں کی قیمتوں میں ایک ساتھ غیر معمولی گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج پر کاروبار کے آغاز کے ساتھ ہی سرمایہ کاروں کو بڑا جھٹکا لگا، جہاں چاندی کے دام ہزاروں روپے نیچے آ گئے اور سونا بھی فی دس گرام کئی ہزار روپے سستا ہو گیا۔ اچانک آئی اس گراوٹ نے بازار میں بے چینی اور بحث کو جنم دے دیا ہے۔
گزشتہ کچھ دنوں سے سونا اور چاندی کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی تھیں اور روز نئے ریکارڈ قائم ہو رہے تھے۔ جمعرات کو چاندی نے پہلی مرتبہ چار لاکھ روپے فی کلوگرام کی سطح عبور کی تھی اور کاروبار کے دوران اس نے چار لاکھ بیس ہزار اڑتالیس روپے فی کلوگرام کی بلند ترین سطح کو چھوا۔ تاہم دن کے اختتام پر قیمتیں کچھ نیچے آ کر بند ہوئیں۔
جمعہ کی صبح جیسے ہی بازار کھلا، چاندی کے سودے میں اچانک بھاری فروخت دیکھی گئی اور قیمت ایک ہی جھٹکے میں تقریباً چوبیس ہزار روپے ٹوٹ کر تین لاکھ پچہتر ہزار نو سو روپے فی کلوگرام تک آ گئی۔ بلند ترین سطح کے مقابلے میں ایک ہی دن میں چاندی تقریباً چوالیس ہزار روپے سستی ہو چکی ہے۔
سونے کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں رہی۔ جمعرات کو سونے نے بھی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے فی دس گرام ایک لاکھ ترانوے ہزار روپے کی سطح کو چھوا تھا، مگر کاروبار کے اختتام پر اس میں ہلکی کمی آ گئی تھی۔ جمعہ کو اپریل ایکسپائری والے سونے میں کاروبار شروع ہوتے ہی بھاری دباؤ دیکھا گیا اور قیمت میں ایک ہی بار آٹھ ہزار سے زیادہ روپے کی کمی درج کی گئی، جس کے بعد سونا ایک لاکھ پچہتر ہزار روپے فی دس گرام کے قریب آ گیا۔ بلند ترین سطح سے موازنہ کیا جائے تو سونا تقریباً اٹھارہ ہزار روپے تک سستا ہو چکا ہے۔
بازار کے ماہرین کے مطابق اتنی کم مدت میں غیر معمولی تیزی کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع نکالنے کا رجحان فطری تھا۔ بڑے پیمانے پر منافع خوری کے باعث فروخت بڑھی اور قیمتوں پر دباؤ آ گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی حالات میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ تجارتی کشیدگی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کے اشاروں نے محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے اثاثوں کی طلب کو وقتی طور پر کم کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں قیمتوں کی سمت عالمی اشاروں، ڈالر کی مضبوطی اور سرمایہ کاروں کی حکمت عملی پر منحصر رہے گی، اس لیے فی الحال بازار میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔