بلڈھانہ:یکم جولائی۔ (ورقِ تازہ نیوز) مہاراشٹر کے بلڈھانہ میں سمردھی مہامارگ ایکسپریس وے پر 32 مسافروں سے بھری بس میں آگ لگ گئی، اب تک 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ بلڈھانہ کے ڈپٹی ایس پی بابو راؤ مہامونی نے بتایا کہ زخمیوں کو بلڈھانہ سول اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے مرنے والوں کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
بس کا ڈرائیور محفوظ ہے، اس نے بتایا کہ ٹائر پھٹنے سے بس بے قابو ہو کر الٹ گئی۔ اس کے بعد بس میں آگ لگ گئی۔ بس شروع ہونے کے بعد باہر نکلنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ حادثے کا شکار ہونے والی بس ودربھ ٹراویلس کی تھی۔ بے قابو ہونے کے بعد بس نے دروازے کی طرف ہی رخ کیا تو کسی کو باہر نکلنے کا موقع نہیں ملا۔ جو بچ گئے وہ ڈرائیور سائیڈ کے کیبن میں تھے، وہ شیشہ توڑ کر باہر نکلے۔

ان میں سے 4 افراد زخمی بھی ہیں۔ واضح رہے کہ بس ناگپور سے پونے کی طرف جارہی تھی۔ اس دوران بلڈھانہ کے سندھ کھیڑاجا کے قریب بس میں آگ لگ گئی۔ ابتدائی معلومات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بس میں 33 افراد سوار تھے۔ بس میں آگ لگنے کے وقت مسافر سو رہے تھے۔ جب تک مسافروں کو خطرہ محسوس ہوا تب تک آگ کافی پھیل چکی تھی۔
جس کی وجہ سے بس میں سوار کئی لوگوں کی موت ہو گئی۔ بس میں آگ تقریباً 1.30 بجے لگی۔ بلڈھانہ کے ضلع مجسٹریٹ کے دفتر نے سمردھی ہائی وے پر ہونے والے حادثے میں زخمیوں اور مرنے والوں کی معلومات کے لیے ہیلپ لائن نمبر جاری کیے ہیں۔
ضلع کے ایس ایس پی سنیل کداسانے نے بلڈھانہ بس میں آگ لگنے سے 26 افراد کی موت کی تصدیق کی ہے۔ بس میں کل 33 مسافر سوار تھے جن میں سے 26 کی موت ہو گئی ہے۔ آگ لگنے سے ڈرائیور سمیت 8 افراد بچ گئے۔ڈرائیور نے بتایا کہ ٹائر پھٹنے کے بعد گاڑی کھمبے سے ٹکرا گئی اور پھر ڈیوائیڈر سے ٹکرائی اور آگ لگ گئی۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ اس حادثہ کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ تاہم ابھی ہماری ترجیح لاشوں کی شناخت کر کے لواحقین کے حوالے کرنا ہے۔