اسلام آباد انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے میں اموات کی تعداد 31 ہو گئی ہے جبکہ 169 زخمی ہو گئے ہیں۔
ترجمان اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق دھماکے کے بعد 169 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جنھیں اسلام آباد کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
دھماکے کے فوری بعد اسلام آباد میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔اسلام آباد کے پمز، پولی کلینک اور دیگر ہسپتالوں میں زخمیوں کو لایا جا رہا ہے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر صحت کو ہدایت دی ہے کہ وہ زخمیوں کے علاج معالجے کی خود نگرانی کریں
وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے۔
اپنے بیان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے اہلخانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمے داران کے فوری تعین کی ہدایت کی ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیر صحت کو خود نگرانی کرنے کا حکم دیا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دھماکے کے ذمے داران کا تعین کر کے اُنھیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔