’آر ایس ایس اور بڑے مندروں کے فنڈز کی بھی جانچ ہو‘، مدارس کی تحقیقات پر کانگریس لیڈر حسین دلوائی کا سخت موقف

ممبئی: ( ایجنسیز)مدارس کی تحقیقات اور ان کے فنڈنگ ذرائع کے متعلق جاری بحث پر کانگریس لیڈر حسین دلوائی کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے اس معاملہ پر دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’اگر تحقیقات ہونی ہے تو وہ صرف مدارس تک ہی محدود کیوں رہے، بلکہ تمام اداروں کی یکساں طور پر جانچ کی جانی چاہیے۔ اگر آپ مدارس کی تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ پوچھ رہے ہیں کہ فنڈز کہاں سے آتے ہیں تو میں پوچھتا ہوں کہ آر ایس ایس کو فنڈز کہاں سے ملتے ہیں؟ اس کی بھی جانچ کیجیے۔‘‘کانگریس لیڈر نے نیوز ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’بڑے مندروں کو فنڈز کہاں سے ملتے ہیں؟ اس کی بھی تحقیقات کیجیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ صرف مدارس ہی کی بات کیوں؟ سب کی بات کیجیے۔‘‘

حسین دلوائی نے الزام عائد کیا کہ ’’مدارس کی تحقیقات کے نام پر خاص طبقے کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ ملک میں کئی طرح کے سماجی، مذہبی اور نظریاتی ادارے کام کر رہے ہیں، جنہں مختلف ذرائع سے فنڈز ملتے ہیں۔ ایسے میں اگر شفافیت کی بات کی جا رہی ہے تو یہ اصول سب پر یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔‘‘ کانگریس لیڈر کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔حسین دلوائی نے اپنے بیان میں واضح طور پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بڑے مندروں کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ’’ان اداروں کو ملنے والے فنڈز کی بھی اسی طرح تحقیقات ہونی چاہئیں جیسی مدارس کی کی جا رہی ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ہی غیر جانبداری اور بھروسہ قائم رہے گا۔

کانگریس لیڈر کے اس بیان کے بعد سیاسی ردعمل کا آنا طے مانا جا رہا ہے۔ اپوزیشن اس مسئلہ پر حکومت پر دباؤ بنانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ فی الحال مدرسوں کی تحقیقات کا معاملہ ایک بار پھر بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔ریلوے کے اعداد و شمار کے مطابق ہر ٹرین میں تقریباً 3 سے 5 فیصد مسافر یا تو اپنا سفر منسوخ کر دیتے ہیں یا وقت پر اپنے بورڈنگ اسٹیشن تک پہنچنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مسافروں کو اب مزید چوکس رہنے کی ضرورت ہوگی۔ اگر کسی وجہ سے مسافر طے شدہ اسٹیشن کی بجائے کسی اگلے اسٹیشن پر سوار ہوتا ہے تو چارٹ بننے سے کم سے کم 24 گھنٹے پہلے بورڈنگ اسٹیشن تبدیل کرنا ضروری ہوگا۔ ایسا نہ کرنے پرسیٹ کسی دوسرے مسافر کو الاٹ ہو جائے گی اور مسافر اس کا دعویٰ بھی نہیں کر سکے گا۔ تاہم ریلوے کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ ڈیجیٹلائزیشن کی سمت میں بڑا قدم ہے۔ اس سے سیٹ ایلوکیشن کا عمل مکمل طور پر شفاف ہو جائے گا اور خالی سیٹوں کے بارے میں تاخیر اور شکایات میں کمی آئے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading