غزہ:15/ جنوری( ایجنسیز) اسرائیل اور حماس نے ایک تاریخی جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کیا ہے جس کے بعد غزہ کی جنگ کے اختتام کی امیدیں روشن ہو گئی ہیں۔ یہ معاہدہ امریکہ کی حمایت سے مصر اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے کئی مہینوں کے مذاکرات کے بعد طے پایا ہے۔ معاہدہ 20 جنوری کو امریکی منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حلف برداری سے عین قبل کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق معاہدہ دونوں فریقوں کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کے فلسطینی قیدیوں کے تبادلے پر مبنی ہے۔
اس معاہدے کے نتیجے میں ممکنہ طور پر 15 ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو سکتا ہے، جس نے مشرق وسطیٰ کو انتشار میں مبتلا کر رکھا تھا۔معاہدے میں چھ ہفتے کی ابتدائی جنگ بندی کا مرحلہ، اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا، حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیل کے زیر حراست فلسطینیوں کی رہائی شامل ہے۔اس معاہدے کے نتیجے میں نہ صرف جنگ کا خاتمہ ہو سکتا ہے بلکہ اس کے ذریع مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کی ایک نئی راہ بھی کھل سکتی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس معاہدے کی کامیابی پر مرکوز ہیں۔غزہ جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق مذاکرات کی معلومات جاننے والے ذرائع کی جانب سے بی بی سی کو تصدیق کی گئی ہے کہ ’قطری وزیرِ اعظم کی حماس اور اسرائیلی مذاکراتی کمیٹی سے علیحدہ ملاقاتوں کے بعد غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدہ طے پا گیا ہے۔
‘7 منٹ قبلامریکی یرغمالیوں کے اہل خانہ نے جنگ بندی معاہدے پر بائیڈن اور ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہےغزہ میں یرغمال بنائے گئے امریکی شہریوں کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ ’انتہائی شکر گزار‘ ہیں کہ معائدے کے نتیجے میں ’اُن کے پیارے وطن واپس آرہے ہیں‘۔ایک بیان میں امریکی یرغمالیوں کے اہل خانہ نے صدر جو بائیڈن، نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیموں کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل، مصر، قطر، امریکہ اور دیگر فریقین کے درمیان جاری رہنے والی کوششوں اور تعاون کے نتیجے میں آج معاملات یہاں تک پہنچے ہیں۔انھوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ اس وقت تک جنگ بندی کے معاہدے پر قائم رہیں جب تک کہ تمام یرغمالی اپنے اپنے گھروں تک واپس نہیں پہنچ جاتے۔انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں تمام یرغمالی اپنے وطن واپس آئیں گے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کی بہت سی لیک ہونے والی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں۔جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں ابتدائی طور پر چھ ہفتوں کی جنگ بندی کی جائے گی۔ اِن چھ ہفتوں کے دوران حماس اُن 33 یرغمالیوں کو رہا کرے گی جنھیں اس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر کیے گئے حملے کے دوران پکڑا تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اِن 33 یرغمالیوں میں سے کتنے ابھی تک زندہ ہیں۔رہا ہونے والے ہر یرغمالی کے بدلے اسرائیل درجنوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔اس معاہدے کے تحت اسرائیل غزہ کی پٹی کے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں موجود اپنے فوجیوں کو نکال کر غزہ کی مشرقی جانب واقع بفر زون میں منتقل کرے گا۔معاہدے کے بعد مزید امدادی ٹرکوں اور ایندھن سے بھرے ٹینکروں کو غزہ داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی اور غزہ سے بے گھر ہونے والے 20 لاکھ فلسطینوں میں سے کچھ کی اپنے گھروں کو واپسی کا انتظام کیا جائے گا۔ یا، ممکنہ طور پر، اس ملبے تک واپسی کا انتظام جو کبھی فلسطینیوں کے گھر ہوا کرتے تھے۔
پہلے چھ ہفتوں میں 33 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی شنید ہے جس کے بعد حماس کے قبضے میں اسرائیلی یرغمالیوں کا ایک گروپ بدستور موجود رہے گا۔ اِن یرغمالیوں کی قسمت مذاکرات اور بات چیت کے اگلے دور سے منسلک ہے، یہ مذاکرات جنگ بندی کے آغاز کے 16 دن بعد شروع ہو گی۔اس کے بعد غزہ کے مستقبل کے بارے میں اہم سوالات، جیسا کہ غزہ پر کون حکومت کرے گا اور کیا اسرائیل مکمل طور پر یہاں سے باہر نکل جائے گا، کے جواب ڈھونڈے جائیں گے۔