ممبئی: بالآخرگیارہ مہینے کے طویل انتظار کے بعد جمعہ کوئی ای ٹی امتحان کانتیجہ ظاہر کردیاگیا۔ پیپراول اور پیپر دوم کا نتیجہ بالترتیب 3.79 فیصد اور3.56 فیصد رہا۔ جبکہ 96 فیصد امیدوار امتحان میں نا کام ہوئے ۔تقریبا ڈھائی ہزار امیدواروں کا نتیجہ محفوظ رکھا گیا ہے۔ ان امیدواروں کے نام ٹی ای ٹی بدعنوانی معاملہ میں ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹی ای ٹی کاامتحان 12 نومبر 2021 کومنعقد کیا گیا تھامگر 2019 میں ہونے والے ٹی ای ٹی امتحان کی بدعنوانی کی وجہ سے مذکورہ رزلٹ جاری کرنے میں تاخیر ہوئی ہے۔ اول تا پنجم جماعت کے پیپراول کیلئے 2 لاکھ45 ہزار 428امیدواروں نے رجسٹریشن کروایا تھا جن میں سے2 لاکھ61ر ہزار549 امیدواروں نے امتحان میں حصہ لیا تھا۔ان میں سے9 ہزار 653 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔جبکہ پیپر دوم میں 2 لاکھ14 ہزار251 رامیدواروں نے رجسٹریشن کروایا تھا۔
ان میں سے ایک لاکھ85/ ہزار439 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے تھے اور 7 ہزار634 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔سبھی امید وار ٹی ای ٹی کی ویب سائٹ پر اپنا نتیجہ دیکھ سکتے ہیں۔ جو امیدوار نتیجہ سے مطمئن نہیں ہیں اور اپنے نمبرات دوبارہ جانچ کروانا چاہتے ہیں وہ 5 نومبر2022 تک آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔ 2 ہزار 551 امیدواروں کا نتیجہ محفوظ ر کھا گیا ہے۔
جس میں ایک ہزار721 امید داروں کا2019 اور790مید واروں کا2018 کے ٹی ای ٹی امتحان کی فرضی سرٹیفکیٹ معاملہ کی فہرست میں نام درج ہونے کے شبہ میں نتیجہ محفوظ رکھا گیا ہے۔ بقیہ امیدواروں کا رزلٹ تکنیکی خامیوں کی وجہ سے محفوظ ہے۔ یادر ہے کہ ٹی ای ٹی امتحان میں بدعنوانی کے باعث اس کا رزلٹ کیلئے کمپیوٹر کا استعمال بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے۔