بابری مسجد فیصلے پر نظر ثانی کیلئے اپیل، بابری مسجد بچاؤ کمیٹی نے مسلم پرسنل لاء کو مکتوب روانہ کیا

مالیگاؤں 16 نومبر (عامر ایوبی) : ایودھیا معاملہ میں رام. مندر بابری مسجد کے تعلق سے جو فیصلہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں سنایا اس پر ملک بھر کی سیکولر عوام نے حیرت کا اظہار کیا ہے حالانکہ اس فیصلے پر ابھی ریویو پٹیشن (نظر ثانی) کی اپیل کی جاسکتی ہے جنتادل سیکولر مالیگاؤں کی ضمنی کمیٹی بابری مسجد بچاؤ کمیٹی نے آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کو ایک مکتوب روانہ کرکے اپیل کی ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ بابری مسجد معاملہ میں نظر ثانی کی درخواست ضرور کرے ارسال کردہ مکتوب کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ بھارت کے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم مانی جاتی ہے.

اس تنظیم کے ذریعے ملک کے مسلمانوں کے شرعی و سماجی مسائل کے حل پیش کئے جاتے رہے ہیں. ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کیلئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی رہنمائی موجودہ حالات میں پہلے سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے.
عرض تحریر یہ ہے کہ گذشتہ 9 نومبر کو بابری مسجد ملکیت کیس میں سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے جو فیصلہ دیا ہے اس سے ملک کا سیکولر طبقہ خصوصاً مسلمان مضطرب ہے مگر چونکہ آئینی اعتبار سے یہ ملک کی سب سے بڑی عدلیہ کا فیصلہ ہے اس لئے بادلِ ناخواستہ کی طرح ہم اس فیصلے کا احترام کرنے کے پابند ہیں. آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بابری مسجد ملکیت کا کیس پوری دیانتداری اور حوصلے سے لڑا مگر چونکہ عدالت کا فیصلہ بابری مسجد کے خلاف آیا ہے اس لئے ہمارا یہ ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست ضرور داخل کرنی چاہیئے.


مالیگاؤں شہر میں جولائی 1992 سے سرگرم ‘بابری مسجد بچاؤ کمیٹی’ جس کے بانی مرحوم سوشلسٹ لیڈر ساتھی نہال احمد صاحب تھے، ان کے ساتھ ساتھ شہریان مالیگاؤں کا موقف شہادت بابری مسجد سے پہلے یہ تھا کہ فرقہ پرستوں سے اسے محفوظ رکھا جائے. اس کیلئے موصوف نے 19 جولائی 1992 کو مرکزی سرکار کو آگاہ کرتے ہوئے ایک احتجاجی جلوس نکال کر یہ مطالبہ کیا تھا کہ سرکار بابری مسجد کی حفاظت کرے مگر مرکز کی کانگریس سرکار نے اس مطالبے پر دھیان نہیں دیا. نتیجہ یہ ہوا کہ فرقہ پرستوں نے 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد شہید کردی. شہادت بابری مسجد کے بعد بھی ہر موقع پر ‘بابری مسجد بچاؤ کمیٹی’ سرکار سے مسجد کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ کرتی رہی. یہاں تک کہ ساتھی نہال احمد مسجد کی شہادت کے خلاف بطورِ احتجاج اپنی آستین پر کالی فیت لگائے رکھی اور ان کی وصیت کے مطابق وہ کالی فیت ان کی لحد میں بھی رکھ دی گئی.

اختصار یہ کہ مالیگاؤں شہر کا موقف یہ ہے کہ بابری مسجد ملکیت کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کی جائے. چونکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اس کیس میں اہم فریق رہا ہے اس لئے شہریان مالیگاؤں کی جانب سے بابری مسجد بچاؤ کمیٹی استدعا کرتی ہے کہ مسلمانوں کے جذبات کا احساس کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے ‘ریویو پِٹیشَن’ فائل کی جائے امید ہے آپ اس خط پر بطورِ خاص توجہ دیتے ہوئے قانونی پہلوؤں کو سمجھ کر سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست ضرور داخل کریں گے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading