نئی دہلی: بابری مسجد پر فیصلہ کی گھڑی جوں جوں نزدیک آ رہی ہے سماج کے مختلف طبقات کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بہ سر و چشم قبول کرنے اور مذہبی جنون کو ہوا نہ دینے کی اپیل کیے جانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اسی ضمن میں آج جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے دہلی میں ایک پریس کانفریس سے خطاب کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ متنازعہ بابری اراضی مقدمہ کے شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا اور اس کا مذہبی اعتقاد سے کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔ لہذا امن و امان کی فضا برقرار رہنی چاہیے۔ مولانا ارشد مدنی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں صحافیوں سے خطاب کر رہے تھے۔
دریں اثنا قومی آواز کے نمائندہ کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ وہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے آج ہی ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’امن و امان برقرار رکھنے کی کوئی بھی اپیل اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک تمام فرقوں کے ذمہ دار ایک ساتھ بیٹھ کر تبادلہ خیال نہ کریں۔ ایسا ہوگا تو وہ کچھ اور کہیں گے ہم کچھ اور کہیں گے۔ لہذا آج ہم موہن بھاگوت سے ملاقات کر رہے ہیں۔‘‘
قبل ازیں ارشاد مدنی نے کہا ’’مسجد پر مسلمانوں کا دعوی تاریخی حقائق پر مبنی ہے۔ مسجد کو کسی ہندو مندر کو توڑے بغیر تعمیر کیا گیا تھا۔ ہم اپنے دعوے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اب جو بھی سپریم کورٹ فیصلہ سنائے گی ہم اس پر عمل کریں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے ہر شہری سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ میں آنے والے فیصلے کا احترام کریں۔
ارشد مدنی نے کہا ’’سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آئے گا، عوام کو اسے قبول کرنا چاہیے۔ ملک میں امن اور باہمی بھائی چارہ قائم رکھیں۔ اس مسئلے پر سنگھ، حکومت اور جمعیۃ ایک ساتھ ہیں۔‘‘
قبل ازیں، ارشاد مدنی کو دہلی حکومت کی طرف سے نافذ کیے گئے آڈ ایون فارمولہ کا بھی شکار ہونا پڑا۔ دراصل ارشد مدنی کی گاڑی کا نمبر آڈ (طاق) ہے جبکہ آج سڑکوں پر صرف ایون (جفت) نمبروں والی گاڑیاں ہی دوڑ سکتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پولس نے ارشد مدنی کی گاڑی کا چالان کاٹ دیا، اس کی وجہ سے مولانا ارشد مدنی پریس کانفرنس میں بھی تاخیر سے پہنچے!
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
