لکھنؤ: یوپی سنی سنٹرل بورڈ نے منگل کے روز بورڈ اراکین کے ساتھ ہوئی میٹنگ کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ بابری مسجد۔ رام مندر معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل داخل نہیں کرے گا۔ عدالت عظمی نے 9 نومبر کو بابری مسجد۔رام مندر متنازع اراضی ملکیت معاملے میں فیصلے سناتے ہوئے متنازع زمین پر رام مندر کی تعمیر کے لئے ٹرسٹ بنانے اور مسجد کے لئے ایودھیا میں ہی کسی نمایاں مقام پر 5 ایکڑ زمین فراہم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔
Abdul Razzaq Khan,Sunni Waqf Board: Majority decision in our meeting is that review petition in Ayodhya case should not be filed. pic.twitter.com/pwexHmprHb
— ANI UP (@ANINewsUP) November 26, 2019
ریاستی راجدھانی لکھنؤ میں مال اوینیو روڈ پر واقع سنی سنٹرل وقف بورڈ کے دفتر پر ہوئی میٹنگ میں بورڈ نے اپنا رخ صاف کردیا کہ وہ نظر ثانی کی اپیل داخل نہیں کرے گا لیکن عدالت کی ہدایت پر مسجد کےلئے ایودھیا میں ہی پانچ ایکڑ زمین لینے پر بورڈ نے ابھی اپنا رخ صاف نہیں کیا ہے۔ فیصلے کے فورا بعد ہی بورڈ کے چیئر مین ظفر فاروقی نے کہا تھا کہ بورڈ اس ضمن میں نظر ثانی کی اپیل داخل نہیں کرے گا لیکن انہوں نے کہا تھا کہ اس کا حتمی فیصلہ بورڈ کی میٹنگ میں ہوگا آج بورڈ نے اس بات پر مہر ثبت کردی کہ وہ نظر ثانی کی اپیل داخل نہیں کرے گا۔
بورڈ چیئرمین ظفر فاروقی کی قیادت میں ہوئی میٹنگ میں 8 میں سے سات اراکین میٹنگ میں پہنچے ۔موصول اطلاع کے مطابق سات میں چھ اراکین نظر ثانی کی اپیل داخل نہ کرنے اور ایک داخل کرنے کے حق میں تھے۔میٹنگ میں شامل ایک رکن کے مطابق میٹنگ میں عدالت کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل داخل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ زمین لینےکے سلسلے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ اس کے لئے بورڈ بعد میں فیصلہ کرے گا۔
اطلاعات کے مطابق بورڈ کےاکثر ممبر ان کاخیال ہے کہ اگر متنازع اراضی کی ارد گرد 67 ایکڑ میں سے پانچ ایکڑ کا کوئی پلاٹ یا ایودھیا میں کسی نمایاں مقام پر زمین دی جاتی ہے تو بورڈ کو اسے قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔موصول اطلاع کے مطابق بورڈنے زمین لینے یا نہ لینے پر اس لئے فیصلہ نہیں کیا ہے کیونکہ ابھی اسے اس ضمن میں حکومت کی جانب سے کسی قسم کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ ساتھ ہی بورڈ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اسے کس جگہ پر زمین دی جاتی ہے اس کے بعد ہی وہ فیصلہ کرے گا کہ زمین لی جائے کہ نہیں۔
بورڈ میٹنگ میں چیئر مین ظفر فاروقی کےساتھ عدنان فاروق شاہ، خوشنید میاں، جنید صدیقی، محمدجنید، عبدالرزاق خان اور محمد ابرار نے شرکت کی۔ قابل ذکر ہے کہ گذشتہ 17 نومبر کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہوئی ایمرجنسی میٹنگ میں فیصلہ کیا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل داخل کرے گا ساتھ ہی مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مسجد کے لئے ایودھیا میں کسی دوسری جگہ زمین لینے سے منع کردیا تھا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
