*این پی آر کی مخالفت میں مہم چلائے گی کُل جماعتِی تنظیم اکوله*
(سیداسرار حسین آکولہ)۔
آکولہ ۔شہریت قانون 2003 کے مُطابق این پی آر، این آر سی کی پہلی سیڑھی ہے۔مرکزی حکومت کے ذریعے این پی آر لاگو کرنے کے بعد 1 اپريل 2020 سے ماہ ستمبر کے آخر تک عوام الناس کی معلومات اکھٹا کی جائے گی۔این پی آر میں جو معلومات دینا ہے اُسکے حوالے سے عوام الناس معلومات دینے میں قاصر رہے گی جس کی وجہ سے چالیس فیصد عوام اس سے متاثر ہوگی
این پی آر کی معلومات اکھٹا کرنے کے لئے جو بھی سرکاری ملازم آئیگا اُسے معلومات نہ دینے اور احترام کے ساتھ اُسے واپس بھیجنے کا فیصلہ کُل جماعتی تنظیم اكولہ نے لیا ہے۔
اسکے لیے محلہ کمیٹیاں قائم کی جائے گی جس کے لئے مُسلم نمائندوں کے ساتھ ساتھ دوسری مذہبی اقلیتوں کو بھی ان کمیٹیوں میں شامل کیا جائے گا۔
پریس نوٹ کے ذریعے تنظیم کے صدر جناب وزیر خان صاحب نے بتایا کہ اس کالے قانون کے ذریعہ مُسلم اقلیت کے ساتھ ساتھ مُلک کی دُوسری اقلیتوں کو پریشان کیا جارہاہے۔اسلئے مہاراشٹر میں 1 مئی سے شروع ہونے والی این پی آر مہم کی سخت مخالفت کا فیصلہ لیا گیا ہے۔اور یہ طے کیا گیا ہے کہ جو کوئی سرکاری ملازم معلومات کے لئے آئیگا اُسے معلومات نہیں دی جائے گی اور اُسے احترام کے ساتھ واپس کر دیا جائے گا۔ہر گھر کے باہر "گو بیک این پی آر" کے اسٹیکرز لگائے جائیں گے،محلّہ کمیٹیاں بنائی جائے گی،کمیٹیوں میں تمام مذہب کے لوگوں کی شمولیت کی جائے گی۔مذہبی اداروں سے اسکی مخالفت کے اعلان کرائے جائیں گے۔
ہم چاہتے ہیں کہ جہاں اس مہم کی مخالفت ہو سرکاری ملازم اِسکی معلومات اپنے اعلیٰ حکّام تک پہنچائے تاکہ مخالفت کا سرکار سنجیدہ نوٹس لے اور اس کالے قانون کو واپس لے۔وزیرِ داخلہ امت شاہ نے جو یقین دہانی کرائی ہے اُسے قانونی طور پر لکھ کر دیں یا جو تشویشناک نقاط این پی آر میں پوچھے جانے والے ہیں اُنہیں ہٹا دیا جائے۔
کُل جماعتی تنظیم ،اکوله کی عوام الناس سے گزارش کرتی ہے کہ وہ این پی آر مخالفت مہم میں ھمارا ساتھ دیں۔
