کُل جماعتی وفاق مہاراشٹر کا متفقہ فیصلہ
اورنگ آباد:(ورق تازہ نیوز )3مارچ بروز منگل کو کُل جماعتی وفاقی مہاراشٹر کا اجلاس اورنگ آباد میں منعقد ہوا ۔اس اجلاس میں کم و بیش تمام ہی علاقوں سے نمائندگی ہوئی۔ ان تمام نمائندوں نے غور وخوص فرما کر مندرجہ تجاویز پر متفقہ فیصلہ کیا گیا ۔ اس اجلاس کی صدارت جماعتی وفاق کے صدر مولانا عبدالحمید ازہری صاحب نے فرمائی۔
نیشنل پاپولیشن رجسٹر(این پی آر)اصل عمل ہے جو وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کا پہلا قدم ہے ۔ این آر سی سے ملکر سی اے اے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ملک کی 40 فیصد آبادی اس سیاہ قانون سے متاثر ہونے جا رہی ہے۔ حکومت سب سے پہلے این پی آر کرائیگی ۔ اس کا جائزہ لے کر ڈی سٹیزن کی نشاندہی کرائیگی جو این آر سی کا ہی نتیجہ ہوگی۔ ایسے تمام لوگوں کو جن پر شک و شبہ دہ اور فل سٹیزن ہونے کا شک ہوگا انہیں سی اے اے کے ذریعے ہندو ہوا تو شہریت دی جائے گی۔اور نہ ہوں تو غیرملکی کہا جائے گا ۔
جس کا نتیجہ ڈیٹینشن سنٹرز میں داخلہ ہوگا۔اس لئے سب سے پہلے ین پی آرکا بائیکاٹ کیا جانا چاہئے۔اس ضمن میں جمعیتہ علماءہند(دونوں) ‘ جماعت اسلامی ہند ‘ جمعتہ الحدیث ‘وحدت اسلامی ہند‘ پاپولر فرنٹ آف انڈیا‘ علماءکونسل‘ الائنس انگیسٹس ‘این آرسی‘ سی اے اے ‘این پی آر‘ اے دستور بچاوتحریک ‘ ہم بھارت کے لوگ ‘بام سیف‘بھارت مکتی مورچہ‘ مولانا سجاد نعمانی ‘ مولانا ولی الرحمانی( سیکریٹری جنرل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)‘ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا واضح موقف یہ ہے کہ این پی آرکا بائیکاٹ کیا جائے۔
بائیکاٹ کیسے کیا جائے :
۱) محلہ کمیٹیاں بنائی جائےں ۔ صدر مسجد کمیٹی ‘امام مسجد‘ محلے کا رپوےرٹراورفعال نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ جہاںممکن ہووہاں دلت ‘ سکھ اور سماجی کارکنان کوبھی شامل کیاجائے ۔ جبب این پی آر کے کارکنان محلہ میں آئیں ان سے یہ کمیٹی ملے انکا استقبال پھول سے ‘چائے پلاکر کیاجائے اورانھیں سمجھایا جائے کہ ”یہ محلہ آپ کی کوئی مددنہیں کرسکتاا ۔براےے مہربانی آپ لوگ واپس جائیں۔
۲)محلے کے ہر دروازے پرGo Back- No NPR کا اسٹیگر لگایا جائے
۳) ضرورت پڑنے پر محلے کے تمام افراد گھروں سے باہر آکراین پی آر کے کارکنان کو سمجھائیں اور انہیں تحریر شکایت دینے کی کوشش کریں کہ محلہ آپ لوگوں کا کوئی تعاون نہیں کرے گا۔
۴)ان معاملات کو بہتر چلانے کے لئے یے مرکزی ٹول فری نمبر کے ذریعے یا کمیٹیوں کے ذریعے اعلان کیا جائے آئے جس کے ذریعے قانونی رہنمائی ‘سوالات کے جوابات اور فوری مسائل کے حل پر رہنمائی کی جائے گی ۔
۵)محلہ میں آنے والے این پی آر کے کارکنان کے ساتھ کی جانے والی گفتگو کی کی ویڈیو گرافی کی جائے۔