نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ نے آسام کے لوگوں سے افواہوں پر توجہ نہیں دینے کی اپیل کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریاست کے قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) میں نام نہیں ہونے پر کسی شخص کو سیدھے ’غیرملکی‘ قرار نہیں دیا جائے گا اور اس کے پاس ’فارن ٹریبیونل‘ میں اپیل کرنے کا اختیار ہوگا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان نے کہاکہ ریاست کے لوگ افواہوں سے بچیں کیونکہ 31 اگست کو حتمی شکل دیئے جانے پر این آر سی میں اگر کسی شخص کا نام نہیں ہے تو اسے سیدھے ’غیرملکی‘ قرار نہیں دیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کے پاس ’فارن ٹریبونل‘ میں اپیل دائرکرنے کا متبادل ہو گا۔
DO NOT BELIEVE RUMOURS ABOUT NRC.
Non-inclusion of a person's name in NRC does NOT amount to his/her being declared a foreigner.
Every individual left out from final NRC can can appeal to Foreigners Tribunals, an increased number of which are being established. pic.twitter.com/8pzNlFV5Ok
— Spokesperson, Ministry of Home Affairs (@PIBHomeAffairs) August 29, 2019
انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ حکومت نے ٹریبونل میں اپیل دائر کرنے کی مدت 60سے بڑھا کر 120دن کردی ہے۔ اس کیلئے ریاست کے اہم مقامات پر کافی تعداد میں ٹریبونل بنائے گئے ہیں۔ حکومت ضرورت مندوں کو ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی سے مفت قانونی مدد بھی دستیاب کرائے گی جس سے وہ اپیل دائر کرسکیں گے۔
ایک افسر نے بتایا کہ وزیر داخلہ امت شاہ اور ریاست کے وزیراعلی سروانند سونووال کے مابین گزشتہ 20 اگست کو یہاں ہوئی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی شخص کو فوراََ ’حراستی مراکز‘ میں نہیں بھیجا جائے گا۔ فارن ٹریبونل، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جیسے تمام قانونی متبادل ختم ہونے کے بعد ہی کسی کو ان مراکز میں بھیجے جانے کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
