ایف بی آئی کی امریکی صدر جو بائیڈن کے گھر کی تلاشی

امریکی صدر جو بائیڈن کے وکیل کا کہنا ہے کہ ریہوبوتھ، ڈیلاویئر میں واقع ان کے گھر سے امریکی تفتیشی ادارے (ایف بی آئی) کی تلاشی کے دوران کوئی خفیہ دستاویزات نہیں ملیں۔ایک بیان میں بائیڈن کے وکیل نے کہا کہ بدھ کی تلاش صدر کی رضامندی سے لی گئی تھی۔

خفیہ دستاویزات کی تحقیقات کے سلسلے میں ان کے گھر کی تقریباً چار گھنٹے تک تلاشی لی گئیایف بی آئی نے اس تلاشی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اور جیسا کہ یہ تلاشی اتفاق رائے سے لی گئی لہذا کوئی سرچ وارنٹ بھی نہیں مانگا گیا تھا۔

بائیڈن کے وکیل باب باؤر کا کہنا ہے کہ یہ تلاشی پیشگی اطلاع کے بغیر ’آپریشنل سیکورٹی اور سالمیت‘ کے مفاد میں کی گئی۔مقامی وقت کے مطابق 0830 سے 1200 تک صدر کے گھر پر خفیہ دستاویزات کی تلاش جاری رہی، باؤر کا کہنا ہے کہ اس دوران ’کوئی کلاسیفائیڈ دستاویزات نہیں ملی ہیں۔‘

باؤر نے مزید کہا کہ کچھ ’مواد اور ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹس‘ جو صدر بائیڈن کے نائب صدر کے طور پر 2009 اور 2017 کے درمیان کی تاریخوں کے ہیں، انھیں ایف بی آئی ’مزید جائزے‘ کے لیے لے گئی ہے۔نومبر میں واشنگٹن ڈی سی میں پین بائیڈن سنٹر سے خفیہ دستاویزات ملنے کے بعد یہ تلاش مختلف مقامات پر کی جانے والی سیریز کی تازہ ترین کڑی ہے۔

دسمبر اور جنوری میں کی گئی تلاشی کے دوران ڈیلاویئرئ ولیمنگٹن میں صدر بائیڈن کے ایک اور گھر سے مزید دستاویزات دریافت ہوئیں۔

برآمد کی گئی خفیہ دستاویزات کی صحیح تعداد ابھی تک واضح نہیں ہے، تاہم اطلاعات کے مطابق کم از کم ایک درجن صرف جنوری کی تلاشی کے دوران ملیں تھیں۔

صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم نے اہلکاروں کو فوری طور پر متنبہ کرکے ’جو کرنا چاہیے تھا وہ کیا‘ اور یہ کہ وہ تحقیقات کے ساتھ ’مکمل طور پر تعاون کر رہے ہیں‘۔پہلی جنوری کی تلاشی کے بعد، صدر بائیڈن نے صحافیوں کو بتایا کہ فائلیں ایک بند گیراج میں تھیں۔انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ یہ سب گلی میں رکھا تھا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading