ایشیا کی سب سے پرانی چینی مل بغیر اجازت نہیں فروخت کرسکے گی چینی

دیوریا: اتر پردیش کے ضلع دیوریا میں صوبہ بہار کی سرحد پر واقع ایشیا کی سب سے پرانی چینی مل اب بغیر انتظامیہ کی اجازت کے اپنا چینی نہیں فروخت کر پائے گی۔ آفیشیل ذرائع نے جمعہ کو یہاں بتایا کہ کسانوں کے گنا بقایاجات کی ادائیگی نہ کرنے پر ضلع انتظامیہ نے پرتاپ پور چینی مل کے اسٹاک کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ چینی مل انتظامیہ کی جانب سے چینی فروخت سے جو رقم موصول ہوگی اس کا تقریبا 85 فیصد گنا کسانوں کے بقایا جات کی ادائیگی اور 15 فیصد رقم چینی مل انتظامیہ کو دی جائے گی۔

جاری پیرائی سیشن میں ابھی تک پرتاپ پور چینی مل نے تقریبا 14 ہزار گنا کسانوں کا تقریبا 25 لاکھ کوئنٹل سے زیادہ گنے کی پیرائی کی ہے۔ کسانوں نے ابھی کت تقریبا 48 کروڑ روپئے کا گنا دیا ہے لیکن مل انتظامیہ کی جانب سے محض 86 لاکھ روپئے کی ہی ادائیگی کی گئی ہے۔

گنا کمشنر سنجے آریہ اور ڈسٹرکٹ گنا افسر کرشن کمار نے چینی مل انتظامیہ کو نوٹس جاری کر کے کسانوں کے بقایاجات کی جلد از جلد ادائیگی کو کہا تھا۔ باوجود اس کے بھی بل انتظامیہ کی جانب سے کسانوں کے بقایاجات کرنے میں کچھ خاص توجہ نہیں دیا۔

آفیشیل ذرائع کے مطابق اس کی اطلاع ڈی ایم امت کشو کو ملنے کے بعد انہوں نے افسران کی تین رکنی کمیٹی تشکیل دے کر چینی مل کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ ضلع گنا افسر کرشنا کمار نے کہا کہ مل کو جتنی چینی مل ہوگی اس کی اجازت ضلع افسر سے لینی ہوگی۔ انتظامیہ کی اس کاروائی سے کسانوں کے بقایا جات کی ادائیگی ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading