ایسابلڈ گروپ جوپوری دنیا میں صرف چند لوگوں میں ہوتا ہے

نئی دہلی:(ایجنسیز)اے، بی، او، اے بی نگیٹیو، پازیٹیو، ایسے کئی طرح کے بلڈ گروپ کے بارے میں سب نے پڑھا اورسنا ہوگا، لیکن ایک اور بلڈ گروپ ہے، جو پوری دنیا میں بہت ہی کم لوگوں کا ہے۔ گولڈن بلڈ گروپ کے نام سے اس گروپ کو سب سے ریئربلڈ مانا جارہا ہے۔ اس بیش قیمتی بلڈ گروپ کی اپنی خاص اہمیت ہیں تو کئی بار ریئرہونے کی وجہ سے یہ جان لیوا بھی ثابت ہوجاتی ہیں۔گولڈن بلڈ کا اصل نام آرایچ نل ہے۔ سب سے ریئرہونے کی وجہ سے تحقیق کررہے سائنسدانوں نے اسے گولڈن بلڈ کا نام دیا۔ سال 1961 سے پہلے ڈاکٹروں کو لگتا تھا کہ خون میں آرایچ فیکٹر کی کمی میں کوئی بھی انسان زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ 1961 میں اس بلڈ گروپ کا پہلا معاملہ سامنے آیا، جو ایک آسٹریلین خاتون میں پایا گیا۔
خون میں آرایچ فیکٹرکو ایسے سمجھ سکتے ہیں۔ خون آربی سی ایس یعنی خون کے سرخ ذرات سے مل کربنتا ہے۔ ان پر پروٹین کی ایک پرت ہوتی ہے، جسے اینٹیجن کے نام سے جانتے ہیں۔ ہر بلڈ گروپ میں اسی نام کا اینٹیجن ہوتا ہے۔ کسی شخص کا بلڈ گروپ اسی اینٹیجن کی بنیاد پر پہچانا جاتا ہے۔ آپ کا بلڈ گروپ ریئرکے کلاس میں آئے گا اگرآپ کے خون میں اینٹیجن نہیں ہیں، جو تقریباً 99 فیصد لوگوں میں ہوتے ہیں۔

بلڈ ٹرانسفیوزن یعنی خون چڑھانے کی ضرورت ہونے پرکسی شخص کا بلڈ گروپ پتہ ہونا ضروری ہے۔ نگیٹیو بلڈ گروپ والے انسان کو آرایچ پازیٹیو خون نہیں چڑھایا جاسکتا ہے۔ ایسا کرنے پر جسم میں اینٹیجن کی موجودگی کی وجہ سے پائے جانے والے اینٹی باڈیز چڑھائے جارہے خون کو فارین پارٹیکل مان لیتے ہیں اوراسے قبول نہیں کرتے۔ ایسے میں حالات جان لیوا ہوسکتے ہیں۔
خون کے تمام علامات میں گولڈن بلڈ سب سے الگ ہے۔ اس میں کسی بھی طرح کا اینٹیجن نہیں پایا جاتا۔ یعنی اگریہ خون کسی بھی بلڈ گروپ کو چڑھایا جائے تو جسم اسے قبول کرلیتا ہے۔ وہیں دوسری طرف اس خاص بلڈ گروپ کو اسی بلڈ گروپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ خون کے تمام علامات میں گولڈن بلڈ سب سے الگ ہے۔

اس میں کسی بھی طرح کا اینٹیجن نہیں پایا جاتا۔ یعنی اگریہ خون کسی بھی بلڈ گروپ کو چڑھایا جائے تو جسم اسے قبول کرلیتا ہے۔ وہیں دوسری طرف اس خاص بلڈ گروپ کو اسی بلڈ گروپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب تک صرف 43 لوگ اس بلڈ گروپ کے پائے گئے ہیں۔ ان میں برازیل، کولمبیا، جاپان، آئرلینڈ اورامریکہ کے لوگ شامل ہیں۔ ریئرسٹ ہونے اورسیم بلڈ گروپ کو ہی قبول کرپانے کی وجہ سے ڈاکٹر ان لوگوں کو مسلسل خون عطیہ کرنے کے لئے ترغیب دیتے رہے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پریہ خون انہیں کے کام آسکے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اتنے کم لوگوں کے اس بلڈ گروپ کا ہونے کی وجہ سے خون چڑھانے کی ضرورت ہونے پرایک ملک سے دوسرے ملک تک خون کا پہنچایا جانا تقریباً ناممکن ہے۔ ایسے میں اپنا ہی خون عطیہ کرکے بینک بنایا جاسکتا ہے جو ایمرجنسی میں کام آسکے۔ (بہ شکریہ نیوز18اردو)

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading